Posts

تذکرہ بھارت کی جنگ آزادی کا!! تحریر: جاوید اختر بھارتی

Image
تذکرہ بھارت کی جنگِ آزادی کا!! تحریر : جاوید بھارتی  بھارت کی آزادی کی تاریخ صرف چند سالوں یا چند شخصیات کی داستان نہیں بلکہ یہ ایک طویل جدوجہد، قربانی، اتحاد اور حوصلے کی تاریخ ہے۔ برطانوی اقتدار کے خلاف آزادی کی اس تحریک میں ہندوستان کے مختلف مذاہب، زبانوں اور علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے اپنا کردار ادا کیا۔ مسلمانوں نے بھی اس جدوجہد میں نمایاں حصہ لیا اور اپنی جان، مال اور آرام کو قربان کرکے آزادی کی تحریک کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ «1857 کی جنگِ آزادی» بھارت کی جنگِ آزادی کا ذکر ہو تو 1857 کی بغاوت ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس تحریک میں ہندو اور مسلمان بڑی تعداد میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ دہلی میں مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو علامتی طور پر قیادت سونپی گئی، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ برطانوی اقتدار کے خلاف مختلف طبقات متحد ہوئے اور ملک کو آزاد کرانے کا عہد کیا  انہوں نے آزادی کی اس جدوجہد میں ایک علامتی مرکز کا کردار ادا کیا۔ ان کے گرد مختلف علاقوں کے سپاہیوں اور عوام نے برطانوی اقتدار کے خلاف مزاحمت کی۔  1857 کی جدوجہد کے اہم رہنماؤں میں...

اظہار محبت بھی جرم ٹھہرا نہ جانے غربت آڑے آتی ہے یا صورت؟ تحریر: جاوید اختر بھارتی

Image
اظہارِ محبت بھی جرم ٹھہرا نہ جانے غربت آڑے آتی ہے یا صورت؟ تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاوید بھارتی  محبت اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک نہایت پاکیزہ، فطری اور مقدس نعمت ہے۔ یہ وہ جذبہ ہے جو انسان کے دل میں خلوص، ایثار، ہمدردی اور قربانی پیدا کرتا ہے۔ محبت صرف دو دلوں کو ہی نہیں بلکہ خاندانوں، معاشروں اور پوری انسانیت کو جوڑنے کا ذریعہ بنتی ہے۔ مگر افسوس کہ موجودہ دور میں محبت کی اصل روح کہیں کھو سی گئی ہے۔ آج محبت کو کردار، اخلاص اور وفاداری کی بجائے دولت، حسن، شہرت اور سماجی حیثیت کی کسوٹی پر پرکھا جانے لگا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات یوں محسوس ہوتا ہے کہ گویا اظہارِ محبت بھی جرم بن گیا ہے۔ جب کوئی غریب شخص اپنے دل کی بات زبان پر لاتا ہے تو اکثر اسے حقارت، طنز یا مذاق کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے جذبات کو یہ کہہ کر رد کر دیا جاتا ہے کہ وہ اس رشتے کے قابل نہیں، کیونکہ اس کے پاس دولت، اعلیٰ ملازمت یا آسائشیں نہیں ہیں۔ دوسری طرف اگر یہی اظہار کسی مالدار یا بااثر شخص کی طرف سے ہو تو اسے خوش قسمتی، کامیابی یا بہترین رشتہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ یہ رویہ اس بات کی علامت ہے کہ ہم انسان کی اصل قدر کو بھول...

انسانیت ایک مقدس جذبہ ہوتا ہے!! تحریر : جاوید بھارتی

Image
انسانیت ایک مقدس جذبہ ہوتا ہے!! تحریر : جاوید بھارتی  انسانی معاشرہ محبت، اخوت، ہمدردی اور ایثار کے رشتوں پر قائم ہوتا ہے۔ جب لوگ ایک دوسرے کے دکھ درد کو اپنا دکھ درد سمجھتے ہیں، ضرورت مندوں کی مدد کرتے ہیں اور دوسروں کی خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں تو معاشرہ ترقی کرتا ہے۔ لیکن افسوس کہ آج کے دور میں انسانیت بھی ایک تجارت بنتی جا رہی ہے۔ بہت سے لوگ انسانیت اور خدمت کے نام پر اپنے ذاتی مفادات حاصل کرنے لگے ہیں۔ یہی طرزِ عمل "دکانداریِ انسانیت" کہلاتا ہے۔ دکانداریِ انسانیت سے مراد یہ ہے کہ لوگ بظاہر ہمدردی، محبت اور خدمت کا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں، مگر ان کے دل میں صرف اپنا فائدہ، شہرت، دولت یا اقتدار حاصل کرنے کی خواہش ہوتی ہے۔ وہ انسانیت کے نام پر دوسروں کے جذبات سے کھیلتے ہیں اور اپنے مفادات کی دکان چمکاتے ہیں۔ اس رویے نے معاشرے کی اخلاقی بنیادوں کو کمزور کر دیا ہے۔ قدیم زمانے میں انسانیت کی خدمت خالص جذبے کے تحت کی جاتی تھی۔ لوگ اپنے پڑوسیوں، رشتہ داروں اور غریبوں کی مدد صرف اللہ کی رضا اور انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت کرتے تھے۔ بیماروں کی تیمارداری، بھوکوں کو کھانا کھلانا اور مساف...

مرحبا سرکار کی آمد مرحبا!! تحریر: جاوید اختر بھارتی

Image
مرحبا سرکار کی آمد مرحبا ( صلی اللہ علیہ وسلم) تحریر: جاوید اختر بھارتی نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت عالم اسلام اور عالم انسانیت کے لئے ایک عظیم تحفہ ہے انعام ہے اور اللہ کا احسان عظیم ہے اس لئے ہمیں جشن میلاد النبی منانے کے ساتھ ہی میلادالنبی کے مقاصد کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور میلاد النبی کے پیغام کو دنیا کے کونے کونے میں ہر خاص و عام تک پہنچا نے کی ضرورت ہےاور اس کے لئے سب سے پہلے خود عمل کرنا ہوگا- « قرآن مذہب اسلام کا آئین ہے» دنیا آج بھی بھٹک رہی ہے اور ہم بھی بھٹک رہے ہیں ،، دنیا بھٹکے یہ بات سمجھ میں آتی ہے مگر ہم کیوں بھٹک رہے ہیں جبکہ رسول کائنات پر نازل ہوئی روشن کتاب آج بھی موجود ہے جس میں دنیاکے وجود سے لے کر دنیا کے فنا ہونے تک کا ذکر ہے اور قرآن ہی مذہب اسلام کا دستور ہے اور آئین ہے اور قرآن کے نازل ہونے کے بعد ساری آسمانی کتابوں کے بارے میں اعلان کردیا گیا کہ وہ برحق تو ہیں اور برحق ماننا بھی ہے مگر عملدرآمد قرآن کے اصول و ضوابط پر ہی ہو گا یعنی قرآن آجانے کے بعد ساری کتابوں پر عملدرآمد منسوخ کردیاگیا ہے،، قرآن ہی اسلام کا نظریہ ہے، اسلام کا دستور ہے، مکمل ض...

زندگی تین حصوں میں!!! تحریر : جاوید اختر بھارتی

Image
بچپن، جوانی اور پھر بڑھاپا!! ( زندگی تین حصوں میں ) تحریر: جاوید بھارتی  بڑھاپا تو آخر بڑھاپا ہے، یہ زندگی کی ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کوئی انسان بچ نہیں سکتا۔ بچپن، جوانی اور پھر بڑھاپا، یہ زندگی کے قدرتی مراحل ہیں۔ انسان چاہے کتنا ہی طاقتور، مالدار یا مشہور کیوں نہ ہو، ایک نہ ایک دن اسے بڑھاپے کی منزل پر پہنچنا ہی پڑتا ہے۔ بڑھاپے میں انسان کی جسمانی طاقت کم ہونے لگتی ہے، نظر اور سماعت کمزور ہو جاتی ہے، اور چلنے پھرنے میں بھی دشواری پیش آتی ہے۔ وہ کام جو جوانی میں آسان معلوم ہوتے تھے، بڑھاپے میں مشکل محسوس ہونے لگتے ہیں۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ بڑھاپا صبر، حوصلے اور دوسروں کے تعاون کا زمانہ ہے۔ اسلام نے بزرگوں کی عزت و تکریم پر بہت زور دیا ہے۔ والدین اور تمام بزرگ افراد کے ساتھ حسنِ سلوک، احترام اور محبت سے پیش آنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ ان کی خدمت کرنا نہ صرف ایک اخلاقی فریضہ ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا بھی بہترین ذریعہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے بزرگوں کی قدر کریں، ان کی ضروریات کا خیال رکھیں، ان کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں اور انہیں کبھی تنہا یا بے سہارا محسوس نہ ہونے د...

بچپن جوانی اور بڑھاپا!!! ( زندگی تین حصوں میں) تحریر: جاوید اختر بھارتی

Image
بچپن، جوانی اور پھر بڑھاپا!! ( زندگی تین حصوں میں ) تحریر: جاوید بھارتی  بڑھاپا تو آخر بڑھاپا ہے، یہ زندگی کی ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کوئی انسان بچ نہیں سکتا۔ بچپن، جوانی اور پھر بڑھاپا، یہ زندگی کے قدرتی مراحل ہیں۔ انسان چاہے کتنا ہی طاقتور، مالدار یا مشہور کیوں نہ ہو، ایک نہ ایک دن اسے بڑھاپے کی منزل پر پہنچنا ہی پڑتا ہے۔ بڑھاپے میں انسان کی جسمانی طاقت کم ہونے لگتی ہے، نظر اور سماعت کمزور ہو جاتی ہے، اور چلنے پھرنے میں بھی دشواری پیش آتی ہے۔ وہ کام جو جوانی میں آسان معلوم ہوتے تھے، بڑھاپے میں مشکل محسوس ہونے لگتے ہیں۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ بڑھاپا صبر، حوصلے اور دوسروں کے تعاون کا زمانہ ہے۔ اسلام نے بزرگوں کی عزت و تکریم پر بہت زور دیا ہے۔ والدین اور تمام بزرگ افراد کے ساتھ حسنِ سلوک، احترام اور محبت سے پیش آنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ ان کی خدمت کرنا نہ صرف ایک اخلاقی فریضہ ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا بھی بہترین ذریعہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے بزرگوں کی قدر کریں، ان کی ضروریات کا خیال رکھیں، ان کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں اور انہیں کبھی تنہا یا بے سہارا محسوس نہ ہونے د...

گلشن اشرفیہ کا ایک پھول مرجھا گیا !! آہ! علامہ مبارک حسین مصباحی تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاوید بھارتی

Image
گلشن اشرفیہ کا ایک پھول مرجھا گیا!! آہ! علامہ مبارک حسین مصباحی  تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاوید اختر بھارتی   یوں تو قانون قدرت ہے کہ جو دنیا میں آیا اسے ایک دن جانا ہے اور اسی قانون قدرت کے مطابق گذشتہ دنوں صحافت وخطابت کی دنیا کا ایک روشن چراغ بجھ گیا ، گلشن اشرفیہ کا ایک مہکتا ہوا پھول مرجھا گیا یعنی فخر صحافت وخطابت الجامعۃ الاشرفیہ کے باوقار استاد اور ماہنامہ اشرفیہ کے چیف ایڈیٹر علامہ مبارک حسین مصباحی کا انتقال ہوگیا جن کے انتقال سے صحافت وخطابت اور درس و تدریس کی فضا سوگوار ہو گئی اور چہار جانب تعزیتی پیغام و پروگرام کا سلسلہ شروع ہو گیا،،  حضرت مولانا مبارک حسین مصباحی نصف صدی سے زائد عرصہ تک علم و ادب، تحقیق و تصنیف، وعظ و ارشاد اور تربیتِ نسلِ نو کے میدان میں نہایت وقار اور استقامت کے ساتھ خدمات انجام دیتے رہے۔ آپ نے اردو زبان و ادب کی آبیاری، دینی فکر کی ترویج اور ہزاروں طلبہ کی علمی و فکری تربیت کے ذریعے جو گراں قدر خدمات سرانجام دیں، وہ ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ آپ کی تحریروں میں علم کی گہرائی، فکر کی پختگی اور زبان کا حسن نمایاں تھا، جبکہ آپ کی خطابت اخلاص، دردِ...