انسانیت ایک مقدس جذبہ ہوتا ہے!! تحریر : جاوید بھارتی
انسانیت ایک مقدس جذبہ ہوتا ہے!! تحریر : جاوید بھارتی انسانی معاشرہ محبت، اخوت، ہمدردی اور ایثار کے رشتوں پر قائم ہوتا ہے۔ جب لوگ ایک دوسرے کے دکھ درد کو اپنا دکھ درد سمجھتے ہیں، ضرورت مندوں کی مدد کرتے ہیں اور دوسروں کی خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں تو معاشرہ ترقی کرتا ہے۔ لیکن افسوس کہ آج کے دور میں انسانیت بھی ایک تجارت بنتی جا رہی ہے۔ بہت سے لوگ انسانیت اور خدمت کے نام پر اپنے ذاتی مفادات حاصل کرنے لگے ہیں۔ یہی طرزِ عمل "دکانداریِ انسانیت" کہلاتا ہے۔ دکانداریِ انسانیت سے مراد یہ ہے کہ لوگ بظاہر ہمدردی، محبت اور خدمت کا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں، مگر ان کے دل میں صرف اپنا فائدہ، شہرت، دولت یا اقتدار حاصل کرنے کی خواہش ہوتی ہے۔ وہ انسانیت کے نام پر دوسروں کے جذبات سے کھیلتے ہیں اور اپنے مفادات کی دکان چمکاتے ہیں۔ اس رویے نے معاشرے کی اخلاقی بنیادوں کو کمزور کر دیا ہے۔ قدیم زمانے میں انسانیت کی خدمت خالص جذبے کے تحت کی جاتی تھی۔ لوگ اپنے پڑوسیوں، رشتہ داروں اور غریبوں کی مدد صرف اللہ کی رضا اور انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت کرتے تھے۔ بیماروں کی تیمارداری، بھوکوں کو کھانا کھلانا اور مساف...