بیٹا جب تو جوان اور میں بوڑھا ہوجاؤں گا!! تحریر : جاوید بھارتی

بیٹا جب تو جوان اور میں بوڑھا ہوجاؤں گا!!
تحریر: جاوید بھارتی 
 ایک بات ایک تقریر ہر جوان کو سننی چاہیے ایک تحریر جو ہر جوان کو پڑھنی چاہیے میرے پیارے بیٹے ایک دن تم مجھے بوڑھا دیکھو گے، میرے چہرے پر جھریاں پڑ جائیں گی، پیشانی پر لکیریں ابھر جائیں گی، ہونٹوں پر پوپری پڑجائے گی، ہاتھوں کی جلدیں سکڑ جائیں گی، پیر لڑکھڑا نے لگیں گے، ہاتھوں میں لاٹھی بھی ہوسکتی ہے، آواز بھرائی بھی ہوسکتی ہے ، آنکھوں کی بینائی کمزور بھی ہوسکتی ہے میرا رویہ تمہیں عجیب لگے گا اس وقت مجھے تمہاری محبت اور صبر کی ضرورت ہوگی۔
 جب میرے ہاتھ کانپنے لگیں گے اور ہاتھ سے کھانا گر جائے یا کپڑے پہننے میں مشکل ہو تو یاد کرنا میں نے تمہیں بھی یہ سب کرنا سکھایا تھا ، تجھے اپنے ہاتھوں سے کھاناکھلا تا تھا اگر میں ایک بات بار بار دہراؤں تو غصہ مت کرنا یاد کرنا بچپن میں تو نے بھی مجھ سے ہر بات 100 دفعہ پوچھی تھی اور میں ہمیشہ تسلی بخش جواب دیتا تھا ،اگر میں خوبصورت نہ لگوں یا مجھ سے تمہیں اچھی مہک نہ آئے تو الزام مت دینا بیٹا یاد کرنا کہ جب تم چھوٹے تھے میں تمہیں ہمیشہ خوبصورت اور صاف ستھرا رکھتا تھا، تجھے نہلا دھلا کر اچھے کپڑے پہناکر کندھے پر بیٹھاتا تھا ،جب میری سوچ دھیمی ہو جائے یا میں بھولنے لگوں تو مجھے برداشت کرنا کیونکہ میری خوشی صرف تمہارے ساتھ رہنے میں ہے بیٹا میں نے تمہارا ہاتھ پکڑ کر تمہیں چلنا سکھایا تھا، اپنے پیروں پر تمہیں کھڑا کرکے میں بظاہر اپنا قدم اٹھاتا اور بڑھاتا تھا حالانکہ سچائی یہ ہے کہ تمہارا کاندھا پکڑ کر میں تمہیں سہارا دیتا تھا کہ کہیں میرا لعل گر نہ جائے،، کل اگر میرے پاؤں کمزور ہو جائیں تو میرا ہاتھ پکڑ لینا اور شرمانا مت،، میں جانتا ہوں کہ میں زندگی سے دور اور موت کے قریب ہو رہا ہوں اس وقت صرف ایک چیز چاہتا ہوں میری غلطیوں کو معاف کر دے،، بیٹا تیری مسکان اور تیری ہنسی اب بھی مجھے وہی سکون دیتی ہے جو تیرے بچپن کی مسکان دیتی تھی اور یاد رکھنا جب تم پیدا ہوئے تھے میں تمہارے ساتھ تھا تو جب میں دنیا سے جاؤں تم میرا ساتھ دینا۔
میں نے تجھے بچپن اور جوانی میں ڈانٹا اور پھٹکارا وہ تیرے لئے نصیحت تھی ، بظاہر ڈانٹ پھٹکار اور غصہ تھا لیکن حقیقت میں تیری رہنمائی اور حوصلہ افزائی تھی اگر میں بوڑھاپے میں ڈانٹوں گا تو وہ تیرے لئے آسیرواد ہوگا۔

میں یہ نہیں کہتا کہ میں نے جو گھر تعمیر کیا ہے اس میں مجھے دفن کرنا ، میں یہ بھی نہیں کہتا کہ کچھ دنوں تک تو بھی قبر میں میرے ساتھ رہنا ،، نہیں نہیں ،، کوئی باپ کیا کوئی انسان ایسا نہیں کرتا،، یہ دنیا کا دستور ہے کہ مرنے کے بعد چارکاندھوں پرسوار ہو کر ہجوم کے ساتھ جانا ہے اور شہر خموشاں میں تنہا رہ جانا ہے لیکن بیٹا یہ ضرور یاد رکھنا کہ میں نے پیشانی سے ایڑی تک پسینہ بہایا ہے تو تیری خوشحالی کے لئے ، بھوک دھوپ پیاس کا سامنا کیا ہے تو خود ایک درخت بن کر تجھے سایہ دینے کے لئے میں نے جو کمایا وہ سب تیرا ہوگا اب تو میرے لئے جو گھر بنائے گا وہ گھر بھی میری قبر ہوگی اس میں نہ کھڑکی ہوگی نہ روشندان ہوگا اور نہ بستر ہوگا ،، میں نے اپنی زندگی میں تجھے عالیشان کپڑے پہنائے اور تو مجھے جو کپڑا پہنائے گا وہ میرا کفن ہوگا ،، بس میرے مرنے کے بعد جو کچھ تو مجھے ایصالِ ثواب کرے گا اسی سے مجھے راحت اور خوشی حاصل ہوگی اور بس تجھ سے یہی ایک مطالبہ ہے کہ مرنے کے بعد مجھے بھول نہ جانا کچھ نہ کچھ میرے لئے کرتے رہنا۔

 اپنے والدین کی عزت کرو یہی تمہاری زندگی کی سب سے بڑی دولت ہے،،
ماں باپ یہ دو ایسے کردار ہیں جن کی قیمت زندگی کے اخری لمحے تک ادا نہیں ہو سکتی ماں وہ ہوتی ہے جو ہمیں جنم دے کر اپنی تکلیفیں بھول جاتی ہے اور باپ وہ ہے جو اپنی تھکان چھپا کر ہمیں مسکراتا ہوا چہرہ دکھاتا ہے ماں کی دعا ہر مصیبت سے بچا لیتی ہے اور باپ کی خاموشی ہمارے حق میں چلتی ہوئی ایک دعا بن جاتی ہے جب ماں سر پر ہاتھ رکھتی ہے تو جیسے سکون اترتا ہے اور جب باپ کا ہاتھ کندھے پر ہوتا ہے تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں جھکا نہیں سکتی ماں باپ وہ درخت ہیں جن کے سائے میں بیٹھ کر زندگی کا ہر موسم آسان لگتا ہے،، ان کے بغیر گھر تو ہوتا ہے،، مگر گھر جیسا احساس نہیں ہوتا ،،کبھی اگر وقت ملے تو ماں کے پیر دبا دینا باپ کے پاس بیٹھ کر دو باتیں کر لینا کیونکہ وہ دن بہت دردناک ہوتا ہے جب صرف ان کی تصویر رہ جاتی ہے اور ہم سوچتے رہ جاتے ہیں۔
ایک باپ غریب ہوکر بھی بیٹے کے لئے امیری کا خواب دیکھتا ہے ، باپ فقیر ہوکر بھی بیٹے کے لئے بادشاہت کا خواب دیکھتا ہے ،، ایک باپ جب اپنی اولاد کی پرورش کے لئے روزی روٹی کی تلاش میں دھوپ کی شدت برداشت کرتا ہے اور سر سے ایڑی تک پسینہ بہاتا ہے لیکن جب اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو دیکھتا ہے تو دھوپ کی تمازت بھول جاتا ہے اور پسینے سے شرابور ہوتے ہوئے بھی اپنے اندر راحت و سکون کی ٹھنڈک محسوس کرتا ہے ۔

محنت مزدوری کرتے ہوئے ، زمین کی کھدائی کرتے ہوئے ، پتھر کی توڑائی کرتے ہوئے ایک باپ کے ہاتھوں میں جب چھالے پڑجاتے ہیں اس وقت بھی اپنے ہاتھوں کو جب آسمان کی طرف اٹھاتا ہے تو اللہ سے اپنے بچوں کے لئے خوشیاں ہی مانگتا ہے اور اسی دوران جب بیٹوں پر نظر پڑتی ہے تو باپ اپنے ہاتھوں میں پڑے چھالوں کو اپنے دونوں ہاتھوں میں پھول جیسا محسوس کرتا ہے۔ 

باپ کی ڈانٹ ڈپٹ پر بھی بیٹے کو اف کرنے کا حق نہیں ہے بلکہ بیٹا جب جوان ہوجائے تو باپ کی پیشانی کی لکیروں کو پڑھنا اس کی ذمہ داری ہے ، باپ کے اٹھنے بیٹھنے کے انداز کو محسوس کرنے کی ذمہ داری ہے ، باپ کی ضروریات کا خیال اس قدر رکھا جانا چاہئے کہ اسے لب کشائی کا موقع ہی نہ ملے اور سب سے خاص بات کہ ہر بیٹے کو اپنے بوڑھے باپ کو دیکھ کر یقین کرنا چاہیے کہ حیات لمبی رہی تو ایک دن ہمیں بھی بوڑھا ہونا ہے اور ہمارا باپ جن مراحل سے گزر رہا ہے ایک دن وہ تمام مراحل کا سامنا ہمیں بھی کرنا ہے ۔

 جو لوگ اپنے ماں باپ سے محبت کرتے ہیں ادب واحترام کرتے ہیں ان کا چہرہ دیکھ کر ضروریات کو محسوس کرتے ہوئے پوری کرتے ہیں تو وہ لوگ یقیناً بہت ہی خوش قسمت ہیں۔ 
javedbharti508@gmail.com
       ++++++++++++++++++++++++++
جاوید اختر بھارتی (سابق سکریٹری یوپی بنکر یونین) محمدآباد گوہنہ ضلع مئو یو پی 

Comments

Popular posts from this blog

کس کو بتاؤں حال دل بے قرار کا!! ( افسانہ) تحریر : جاوید بھارتی

ہمارے لیے علم سرمایہ ہے اور علم دین عظیم سرمایہ ہے

اب غزہ جیسی تصویریں اسرائیل سے آنے لگیں!! تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاوید اختر بھارتی