تینتیس سال بعد نئی بابری مسجد کی تعمیر یا فتنۂ کبیر!! تحریر........... جاوید اختر بھارتی
تینتیس سال بعد نئی بابری مسجد کی تعمیر یا فتنۂ کبیر!!
تحریر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاوید بھارتی
چھ دسمبر 1992 کو بابری مسجد شہید کر دی گئی یعنی 33 سال کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن جب بھی چھ دسمبر آتا ہے تو اس کی یاد تازہ ہو جاتی ہے مسجد کی شہادت کے بعد ملک کے جو حالات تھے وہ بھی انکھوں کے سامنے ا جاتے ہیں اب غور کرنے کی بات یہ ہے کہ بابری مسجد تو اب نہیں رہی لیکن بابری مسجد کے نام پر سیاست کرنے والے اور مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے والے اج بھی اپنی عادت سے باز نہیں ارہے ہیں بابری مسجد کے نام پر سیاست کی روٹیاں کل بھی سینکی گئی اور اج بھی سینکی جا رہی ہیں کتنے لوگ ایسے تھے اور ہیں جو کسی وقت میں گمنام تھے لیکن بابری مسجد کے نام پر شہرت حاصل کی اونچے اونچے محل تعمیر کیے کار اور بنگلہ والے ہو گئے اب ان کی زندگی بڑے ہی عیش و ارام سے گزر رہی ہے لیکن بابری مسجد اپنی جگہ پر نہیں رہی ہر سال چھ دسمبر اتا ہے اور گزر جاتا ہے بابری مسجد سے ہمدردی دکھائی جاتی ہے لیکن اس چھ دسمبر کو یہ عہد نہیں کیا جاتا کہ اج سے ملک کی تمام مساجد کو ہم اپنے سجدوں سے اباد کریں گے راقم الحروف نے اپنے علاقے کی جامع مسجد میں چھ دسمبر اور سات دسمبر کو فجر کی نماز میں دس ادمی دیکھے اب اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہمیں بابری مسجد سے سچی ہمدردی کتنی ہے اور اس سال جب چھ دسمبر ایا تو کچھ الگ ہی منظر نظر ایا بنگال کی سرزمین پر ایک سیاسی لیڈر جو بھلے ہی وزیر رہا ہو رکن اسمبلی رہا ہو لیکن اس کی کوئی شہرت نہیں تھی کوئی اسے جانتا نہیں تھا اس نے اعلان کیا کہ ہم مرشد اباد میں بابری مسجد کی تعمیر کے لیے سنگ بنیاد رکھیں گے اور چھ دسمبر کو اس نے اعلان کے مطابق نئی بابری مسجد کی بنیاد رکھی سچائی یہ ہے کہ اسے مسجد سے ہمدردی نہیں اور مسجد سے دلچسپی نہیں اور اس کے دل میں دین اسلام سے سچی لگن بھی نہیں اگر دین سے سچا لگاؤ ہوتا اور مسجد سے سچا پیار ہوتا اور دین کی تبلیغ و اشاعت کے لیے مسجد تعمیر کرتا تو اس مسجد کا نام بابری مسجد ہرگز نہیں رکھتا اب یہاں پھر سوال اٹھتا ہے کہ اگر وہ کسی بھی صحابی کے نام سے یا کسی بزرگ کے نام سے مسجد کی سنگ بنیاد رکھتا تو اسے ملک میں وہ شہرت نہیں ملتی جس شہرت کی اس کے اندر بھوک ہے-
اس لیے کہ ائے دن اور برابر دنیا بھر میں کہیں نہ کہیں مساجد و مدارس کا سنگ بنیاد رکھا جاتا ہے ہمایوں کبیر نے بابر کے نام سے منسوب اس لیے مسجد کی بنیاد رکھی تاکہ ملک میں اپنا نام و نمود ہو جبکہ بابر کوئی مذہبی پیشوا نہیں تھا پھر اس کے نام سے مسجد کی بنیاد رکھنا اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ہمایوں کبیر کسی اور کے اشارے پر یہ کام کر رہا ہے اس لیے کہ جسے دین کی تبلیغ و اشاعت کی فکر ہوگی تو وہ دنیاوی نام و نمود کی فکر نہیں کرے گا بلکہ اس کا ہر کام اللہ کی رضا کے لیے ہوگا اسلام کی سربلندی کے لئے ہوگا اسلامی معاشرے کے فروغ کے لیے ہوگا لیکن ایسا نہ کر کے موجودہ حالات میں یہ جو قدم اٹھایا گیا ہے یہ غیر مناسب ہے اور سراسر غلط ہے-
مسجد ہی تعمیر کرنا تھا تو صحابہ کرام کے نام سے یا بزرگان دین کے نام سے مسجد تعمیر کرنا چاہیے تھا یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ہمایوں کبیر بی جے پی میں بھی رہ چکا ہے اور اس وقت وہ ممتا بنرجی کی پارٹی تریمول کانگرس میں تھا لیکن جب اس نے بابری مسجد کے سنگ بنیاد کا اعلان کیا تو ممتا بنرجی نے اسے اپنی پارٹی سے نکال دیا اور یہ سارا کام ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے جب 2026 میں بنگال کے اندر اسمبلی انتخابات ہونے ہیں-
بہار اسمبلی انتخاب سے قبل ائی لو محمد کا نعرہ لگایا گیا جلوس نکالا گیا اور ہنگامے ہوئے گرفتاریاں بھی ہوئیں انگنت جگہوں پر لاٹھی چارج ہوئے اور بنگال اسمبلی انتخابات سے قبل نئی بابری مسجد کی بنیاد رکھی گئی،، کتنے بیوقوف ہیں وہ مسلمان جو ہر کس و ناکس کے پیچھے بھاگنے لگتے ہیں جو جب چاہتا ہے جہاں چاہتا ہے جس طرح چاہتا ہے انہیں نچاتا ہے،، اخر ملک کے مسلمانوں کے اندر سیاسی دور اندیشی اور سیاسی شعور کب جاگے گا ملک کے وہ تمام چھوٹے چھوٹے سماج و طبقات کے اندر سیاسی بیداری اگئی اور انہیں حکومت میں حصہ داری بھی ملنے لگی لیکن مسلمان ہے کہ اپنے اندر اج بھی سیاسی بیداری نہیں لا سکا اور یہی وجہ ہے کہ جہاں دوسرے مذہب کے لوگ ہمیں نشانہ بناتے ہیں تو وہیں مسلمان بھی مسلمان کو نشانہ بنانے میں اور اپنے ذاتی اغراض و مقاصد حاصل کرنے میں پیچھے نہیں ہے جس کا سیدھا نمونہ بنگال میں دیکھا جا سکتا ہے-
ہمایوں کبیر نے مرشدآباد میں بظاہر بابری مسجد کی بنیاد رکھی ہے لیکن سچ بات تو یہ ہے کہ اس نے بنگال میں 2026 میں بی جے پی حکومت بنوانے کی بنیاد رکھی ہے ، بی جے پی کے لئے زمین ہموار کی ہے آج نہیں تو کل یہ سارا راز کھل جائے گا-
روزانہ مؤذن کانوں میں انگلیاں ڈال کر مسجد کے مینار سے اذان کے کلمات بلند کرتا ہے لیکن مسجد نہیں بھرتی ہر جمعہ کو مسجد کا خطیب و امام نماز کی پابندی کا درس دیتا ہے پیغام دیتا ہے لیکن اس کے باوجود بھی مسجدیں نہیں بھرتی بے شمار ایسی مساجد ہیں جو ویران پڑی ہوئی ہیں لیکن ایک شخص اعلان کرتا ہے کہ بابری مسجد کی بنیاد رکھی جائے گی تو سروں پر اینٹیں لاد کر کئی کئی کلومیٹر سے لوگ بھاگتے چلے ارہے ہیں کم از کم اتنا تو سوچنا چاہیے تھا بابری مسجد کی بنیاد رکھنے کا اعلان کرنے والے کی حقیقت کیا ہے اس کی اوقات کیا ہے اس کی اہمیت کیا ہے،، کیا وہ اس قابل ہے کہ ہم اس کی اواز پر لبیک کہیں جبکہ وہ ایم ایل ہی تو ہے اور کچھ نہیں ہے،، مسلمان مسجد کے مؤذن کے اذان کے کلمات سن کر کاش ایسے ہی مساجد کی طرف دوڑتا تو مسلمانوں کے حالات سنور سکتے ہیں اور مسلمانوں کا معاشرہ پاکیزہ ہو سکتا ہے لیکن نہیں مسلمانوں کی حالت یہ ہے کہ دینی سیاسی و سماجی تینوں اعتبار سے زوال پذیر ہے یہاں تک کہ جمعہ کے دن بھی صرف جمعہ کی نماز ادا کرنے کے لئے مسجد بھرتا ہے یعنی جمعہ کے دن بھی چار وقت مسجد بھرنے کے لئے اور نماز ادا کرنے کے لئے اس کے پاس فرصت نہیں ہے پھر بھی عالمی سطح پر اپنے ناگفتہ بہ حالات پر غیبی مدد اور معجزے کا انتظار کررہا ہے-
مرشدآباد میں رکھی گئی بابری مسجد کی بنیاد کو مسجد ضرار ہی کہا جاسکتا ہے کہ کیونکہ آغاز سے تنازعہ کھڑا ہوگیا ،، ایک طرف سنگ بنیاد رکھا گیا تو دوسری طرف اسے ڈھانے کی بات بھی کہی گئی اور سارے معاملات پر غور کرنے سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ڈھانے کا اعلان کرنے والے اور بنیاد رکھنے والے دونوں ملے ہوئے ہیں اور یہ ایک سازش رچی گئی ہے اور ہندوؤں و مسلمانوں کے جذبات کو ابھارنے کی کوشش کی گئی ہے،، اور واضح رہے کہ مذہب اسلام کے اندر فتنے کی گنجائش نہیں ، مکر و فریب کی گنجائش نہیں اور کسی کی دلآزاری کی بھی گنجائش نہیں ہے،، یاد رکھنا چاہیے کہ ہمایوں کبیر کے ذریعے رکھی گئی بابری مسجد کی بنیاد سے فتنے کی بو آتی ہے ، مکر و فریب کی بو آتی ہے، فرقہ پرستی کی بو آتی ہے مسجد کو آلہء کار بنا کر کسی پارٹی کو فائدہ پہنچانے کی بو آتی ہے-
javedbharti508@gmail.com
+++++++++++++++++++++++++++
Comments
Post a Comment