ہم مسلماں ہیں لیکن ہمارا حال کیا ہے ؟ تحریر: جاوید اختر بھارتی
ہم مسلماں ہیں لیکن ہمارا حال کیا ہے!!
( سنڈے ٹو سنڈے جمعہ ٹو جمعہ)
تحریر : جاوید بھارتی
javedbharti508@gmail.com
جب بھی بول تو بول اے بندے پہلے اس کو تول،،
بول ہی پکڑے جائیں گے تیرے بولوں کا ہے مول،،
بول بہت انمول ہیں لیکن بول ہی کھولے پول ،،
بو لنے والے دا نا ہے تو بو ل بڑے نہ بول،،
ہم مسلمان ہیں ہم مسلمان کے گھر میں پیدا ہوئے ہیں جب ہم پیدا ہوئے تو ہمارے کانوں میں اذان دی گئی جب ہم کچھ بڑے ہوئے تو ہمیں جہاں لاڈو پیار کیا گیا وہیں ہمیں مدرسے میں داخل کیا گیا تاکہ ہم تعلیم حاصل کر سکیں چنانچہ مدرسے میں ہم نے تعلیم حاصل کی جہاں ہمیں الف پڑھا کر یہ بتایا گیا کہ اللہ ایک ہے وہی سارے جہان کا مالک ہے اور ہم اس کے بندے ہیں اور ہم نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہیں ہمیں اللہ اور اس کے رسول کے فرمان کے مطابق زندگی گزارنا ہے کیونکہ نبی پاک کی سیرت سے منہ موڑ کر زندگی گزارنا برباد ہو جانا ہے ناکام ہو جانا ہے نامراد ہو جانا ہے نبی پاک کا اسوہ حسنہ ہمارے لیے نمونہ عمل ہے-
دنیا آج بھی بھٹک رہی ہے اور ہم بھی بھٹک رہے ہیں ،، دنیا بھٹکے یہ بات سمجھ میں آتی ہے مگر ہم کیوں بھٹک رہے ہیں جبکہ رسول کائنات پر نازل ہوئی روشن کتاب آج بھی موجود ہے جس میں دنیاکے وجود سے لے کر دنیا کے فنا ہونے تک کا ذکر ہے اور قرآن ہی مذہب اسلام کا دستور ہے اور آئین ہے اور قرآن کے نازل ہونے کے بعد ساری آسمانی کتابوں کے بارے میں اعلان کردیا گیا کہ وہ برحق تو ہیں اور برحق ماننا بھی ہے مگر عملدرآمد قرآن کے اصول و ضوابط پر ہی ہو گا یعنی قرآن آجانے کے بعد ساری کتابوں پر عملدرآمد منسوخ کردیاگیا ہے،، قرآن ہی اسلام کا نظریہ ہے، اسلام کا دستور ہے، مکمل ضابطۂ حیات ہے اور قرآن ایسی کتاب ہے جس میں رائی کے دانے کے برابر بھی شک کی گنجائش نہیں ہے اور قرآن کی حفاظت کی ذمہ داری بھی خود اللہ تعالیٰ نے لے رکھی ہے اور قرآن کے نزول اور تحفظ سے متعلق آیت بھی قرآن میں ہی موجود ہے جو ایک چیلنج ہے ان لوگوں کے لئے جو لوگ قرآن پر انگلی اٹھاتے ہیں-
یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تبارک و تعالی نے زمین و اسمان چاند و سورج کہکشاں شجر و حجر بحر و بر یہ سب کچھ نبی پاک کے صدقے میں بنایا ہے اس سے یہ معلوم ہوا کہ ہمیں جو کچھ بھی ملا ہے وہ نبی پاک کے صدقے میں ہی ملا ہے اب ہمیں اس پہلو پہ غور کرنا ہوگا کہ جہاں سے جس ذات سے ہمیں یہ ساری خصوصیات، مراعات، سہولیات ملی ہیں تو ہمیں اس کا شکر گزار ہونا چاہیے یا نہیں؟
اب ہم ذرا اپنا جائزہ لیں اور اپنا محاسبہ کریں کہ ہم اللہ اور اس کے رسول کے کتنے شکر گزار ہیں اور اس کے فرمان پر کتنا عمل کرتے ہیں،، فجر کی اذان ہوتی ہے تو ہم سوئے رہتے ہیں ظہر کی اذان ہوتی ہے تو ہم کام میں مصروف رہتے ہیں عصر کی اذان ہوتی ہے تو ہم سیر و تفریح میں مست رہتے ہیں مغرب کی اذان ہوتی ہے تو ہم چائے خانوں میں بیٹھے رہتے ہیں عشاء کی اذان ہوتی ہے تو وہ بھی ہمیں بہت بھاری محسوس ہوتی ہے ہم جہاں رہتے ہیں وہیں جمے رہتے ہیں اب بتائیے پانچوں وقت کی نماز ہم نے ترک کر دیا مؤذن کے ذریعے دی گئی اذان کو ان سنی کر دیا پھر بھی ہم غزلیں گاتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں ہم سے نہ ٹکرائیے-
نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز میری انکھوں کی ٹھنڈک ہے نماز مومن کی معراج ہے اور نماز تمام عبادات میں سب سے افضل عبادت ہے لیکن اس کے باوجود بھی نماز نہ پڑھنا اور نماز کے لیے وقت نہ نکالنا کتنے تعجب کی بات ہے جب کہ قران مجید میں سات سو جگہ پر نماز کا ذکر ہے اس سے نماز کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے-
قران اعلان کرتا ہے کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور ہمارا حال یہ ہے کہ ہم خانوں میں بٹ گئے، روایات اور اختلافات کا شکار ہو گئے، الگ الگ گروہوں میں تقسیم ہو گئے اور اس کے بعد ایک دوسرے پر لعن وطن بھی کرنے لگے بسا اوقات ایک دوسرے سے ملنے جلنے سے پرہیز کرنے کا پیغام بھی دینے لگے زندگی میں ایسے بھی لمحات دیکھنے کو ملتے ہیں کہ ایک انسان یہ بھی بھول جاتا ہے کہ انسانیت بھی کوئی چیز ہے،، جبکہ کوئی اچھا انسان نہیں بن سکتا تو وہ اچھا مسلمان بھی نہیں بن سکتا,, یہاں بھی ہمیں غور کرنے کی ضرورت ہے کہ جب ہم اچھے انسان نہیں بن سکے تو اچھے مسلمان کہاں سے بنیں گے پھر ہم کس بنیاد پر کہتے ہیں کہ ہم مسلماں ہیں ہم سے نہ ٹکرائیے-
آئیے ذرا حقوق کی بھی بات کریں انسانوں پر دو طرح کے حقوق ہیں ایک کا نام حقوق اللہ ہے اور دوسرے کا نام حقوق العباد ہے اب جہاں تک بات حقوق اللہ کی ہے تو اللہ کا حق ادا نہ کرنے کی صورت میں اللہ معاف کر سکتا ہے لیکن یاد رکھیں کہ حقوق العباد کی ادائیگی میں کمی ہوئی اور ہم نے کسی کا دل دکھایا کسی کے ساتھ حق تلفی کی اور کسی کی مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھایا تو ایسی صورت میں اللہ تبارک و تعالی بھی اس وقت تک معاف نہیں کرے گا جب تک کہ وہ بندہ معاف نہ کر دے جس بندے کے ساتھ حق تلفی ہوئی ہے اور نا انصافی ہوئی ہے،، اب ہمیں پھر جائزہ لینا ہوگا اور اپنا محاسبہ کرنا ہوگا کہ ہم حقوق العباد کی کتنی ادائیگی کرتے ہیں اج تو صورتحال یہ ہے کہ پڑوسی سے جھگڑا رشتہ داروں سے جھگڑا یہاں تک کہ بھائی بھائی میں جھگڑا اور جھگڑے اور لڑائی میں ہم حدیں پار کر جایا کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کا فرمان بھی بھول جایا کرتے ہیں پھر ہم کس بنیاد پر یہ کہتے ہیں کہ،، ہم مسلماں ہیں ہم سے نہ ٹکرائیے-
کسی نے مسلکی نام پر کرانہ کی دکان نہیں کھولی کوئی کپڑے کی دکان نہیں کھلی کوئی میڈیکل اسٹور نہیں کھلا کوئی جنرل اسٹور نہیں کھلا کیوں اس لیے کہ مسلکی نام سے دکانیں کھولیں گے تو دوسرے لوگ اس دکان پر نہیں جائیں گے جس سے ان کے خرید و فروخت کا معاملہ متاثر ہوگا اور ان کو نقصان اٹھانا پڑے گا لیکن وہی لوگ مساجد و مدارس پر مسلکی لیبل ضرور لگاتے ہیں اس میں بھی اتحاد و اتفاق کی گنجائش نہیں رکھتے ہیں لیکن مدارس ایسے بھی ہیں جو حکومت سے الحاق شدہ ہے اس میں کبھی کبھی تنخواہوں کے مسائل پیش اتے ہیں تو سبھی مکتب فکر کے مدارس کے ذمہ داران ایک جگہ سر جوڑ کر بیٹھتے ہیں اور حکومت کے سامنے اپنے مطالبات رکھتے ہیں لیکن دین کے معاملے میں یہ فراخ دلی نہیں دکھائی جاتی بلکہ اپنے اپنے سٹیجوں سے ایک دوسرے پر لعن و طعن کیا جاتا ہے اور اختلافات کو ہوا دینے کی پوری پوری کوشش کی جاتی ہے ایک دوسرے کو مسلمان بھی تسلیم نہیں کیا جاتا یعنی دائرہ اسلام سے خارج بھی کر دیا جاتا ہے پھر بھی نہ جانے کس بنیاد پر کہا جاتا ہے کہ ہم مسلمان ہیں ہم سے نہ ٹکرا ئیے -
ہندوستان میں مسلمانوں کی کوئی سیاسی شناخت نہیں اس کی ایک بہت بڑی وجہ یہ ہے کہ ہندوستان کے مذہبی رہنما سیاسی شناخت قائم کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے اور مسلکی و فرقہ بندی کی بنیاد پر شناخت قائم کرنے میں کوئی کسر نہیں باقی رکھتے اس وجہ سے سیاسی شناخت قائم نہیں ہو سکی ساتھ ہی ہندوستانی مسلمانوں کے اندر ذات برادری کی بنیاد پر زبردست تفریق ہے یعنی مذہب اسلام کے اندر اونچ نیچ چھوت بھید بھاؤ نہیں ہے لیکن مسلمانوں کے اندر اونچ نیچ بھی ہے چھوا چھوت بھی ہے اور بھید بھاؤ بھی ہے یہ بھی مسلمانوں کی سیاسی کمزوری کی یا سیاسی طور پر شناخت نہ ہونے کی بہت بڑی وجہ ہے-
ایک مولانا نے اپنے خطاب میں کہا کہ بہت سے باپ ایسے ہیں جو اپنی سگی اولاد میں انصاف نہیں کرتے دو بیٹے ہیں ایک بیٹے کی آمدنی زیادہ ہے دوسرے بیٹے کی آمدنی کم ہے میرے پاس ایسے بہت قصے ہیں لوگ شکایتیں کرتے ہیں ا کر کہ بڑا بھائی جو ہے اس کی امدنی زیادہ ہے ماں باپ اسی کا ساتھ دیتے ہیں یہ مسلمان ہیں جو اپنی سگی اولاد کے ساتھ انصاف نہیں کر سکتے عجیب بات ہے پھر کس منہ سے دوسروں کی حکومتوں سے انصاف کی امید رکھتے ہیں اور آپ کس منہ سے کہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں ہم سے نہ ٹکرائیے جبکہ ناانصافی کا دامن آپنے تھاما ہوا ہے ، اولاد کے ساتھ حق تلفی کا سلسلہ آپ نے جاری رکھا ہے -
عبادت کا معاملے پر غور کریں جس طرح عیسائیوں کے وہاں سنڈے ٹو سنڈے اسی طرح مسلمانوں کے وہاں جمعہ ٹو جمعہ ،، کسی نے روکا ہے پانچ وقت نماز پڑھنے سے ؟ اگر نہیں روکا ہے تو پھر محلے کی مسجد جمعہ میں بھر جاتی ہے پھر اگلے جمعہ کے دن فجر کے وقت تک کیوں نہیں بھرتی ؟ عیسائیوں کا طرز عمل اپنا کر کس بنیاد پر کہا جاتا ہے کہ ہم مسلماں ہیں ہم سے نہ ٹکرائیے-
امریکہ نے عراق کو تباہ کر دیا ، اسرائیل نے فلسطین کی سرزمین خون سے لالہ زار کردیا چھوٹے چھوٹے بچوں کے چیتھڑے فضاؤں میں اڑے بستی کی بستی کا نام و نشان مٹادیا اور ستاون مسلم ممالک خاموش تماشائی بنے رہے اور بنے ہوئے ہیں پھر کس بنیاد پر کہا جاتا ہے کہ ہم مسلماں ہیں ہم سے نہ ٹکرائیے-
اب تو کمزوروں کو حق دینے کے بجائے ان کا حق چھینا جاتا ہے، امانت میں خیانت کیا جاتا ہے ، دوستی میں دغا کیا جاتا ہے ، رشتہ جوڑنے کے بجائے توڑا جاتا ہے ، قربت قائم کرنے کے بجائے دوریاں بڑھانے کا فیصلہ لیا جاتا ہے اکثر و بیشتر مختلف تقریبات میں ناطے کے ناط کو مدعو کیا جاتا ہے اور سگے بھائیوں کو چھوڑا جاتا ہے ، کسی کے عیبوں کو چھپانے کے بجائے اس کے عیبوں کا ڈنکا پیٹا جاتا ہے ملاقات ہونے پر سامنا ہوتا ہے تو تعریف کیا جاتا ہے اور مڑتے ہی پیٹھ پیچھے شکایت کیا جاتا ہے ، ناپ تول میں کمی کیا جاتا ہے ، حساب کتاب میں خرد برد کیا جاتا ہے ،، یہ حال ہے آج ہمارا پھر بھی کہا جاتا ہے کہ ہم مسلماں ہیں ہم سے نہ ٹکرائیے-
نبی پاک نے نکاح کو آسان بنایا اور آسان بنائے رکھنے کا حکم دیا لیکن مسلمانوں نے نکاح کو مشکل بنادیا، نبی کریم نے پسینہ خشک ہونے سے پہلے مزدور کی مزدوری ادا کرنے کا حکم دیا لیکن مسلمانوں نے مزدوری گھٹانے اور مزدوری سے متعلق ناانصافی کا سلسلہ جاری کردیا،، خدارا اب سوچ بدلنے پر غور کرنا چاہئے اور مسلمانوں کو احکام شرع کا پابند ہونا چاہئے ،، اے مسلمانوں و انسانوں تمہیں کس بات کا گھمنڈ ہے آخر مرنے کے بعد تیرے اپنے ہی تجھے ہاتھ لگانے کے بعد اپنا ہاتھ دھلتے ہیں ،، اے انسان تیری حقیقت کیا ہے،، پیدا ہونے کے بعد اپنے سے نہادھل نہیں سکا اور مرنے کے بعد بھی اپنے سے نہا دھل نہیں سکا یہاں تک کہ تو اپنا آخری لباس بھی اپنے سے نہیں پہن سکتا ، جو تیری آخری آرام گاہ ہے اس میں بھی اپنے سے داخل نہیں ہوسکتا یہی تیری حقیقت یہی تیری اوقات ہے -
والدین کی خدمت ایک عظیم نیکی ہے ماں کے قدموں تلے جنت ہے اور باپ اس جنت کا دروازہ ہے باپ ایک ایسا شجر ہے جس کا سایہ بہت مضبوط ہوتا ہے جو فقیر ہو کر بھی بیٹے کے لئے بادشاہت کا خواب دیکھتا ہے خود اپنے ہاتھ پاؤں میں چھالے پڑ جائیں لیکن اس کی کوشش ہوتی ہے کہ بیٹے کے جسم پر خراش نہ آئے،، جو اپنی خواہشوں کو دفن کر کے ہماری خواہشیں پوری کرتا ہے جو بنا آنسو اور بنا آواز کے روتا ہے وہ ایک بات ہوتا ہے جو اپنے لیے لاپرواہ رہتا ہے لیکن ہماری پرواہ کرتا ہے وہ ایک باپ ہوتا ہے،، باپ کا باحیات رہنا بھی بیٹے کے لئے سعادت کی بات ہے اور باپ کی خدمت کرنا بھی بیٹے کے لئے سعادت مندی کی بات ہے-
بھائی کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے تاکہ مضمون مکمل ہو سکے کس کا حق چھین کر کوئی امیر نہیں بنتا بلکہ رشتے ٹوٹ جاتے ہیں،، رشتہ نبھانے کے لیے بڑا دل چاہیے،، صرف حصہ لینے کے لیے نہیں،، دولت بانٹنے سے کوئی امیر نہیں ہوتا،، بلکہ بھائی کا ہاتھ تھامنے سے انسان مہان بنتا ہے اج تم اس کے ساتھ کھڑے رہو گے کل وہی بھائی ڈھال بن کر تمہارے ساتھ کھڑا ہوگا-
ہاتھ اللہ نے بخشا ہے سخاوت کے لئے ، پاؤں بخشا ہے راہ صداقت کے لئے ، آنکھ بخشا ہے دیدار حقیقت کے لئے ، ہر نظر ہو تیری نظارہ الفت کے لئے، دماغ بخشا ہے ترتیب و حکمت کے لئے ، دل دیا ہے ایمان کی دولت کے لئے ، اپنے محبوب کی اور اپنی محبت کے لئے یعنی اطیعواللہ و اطیعو الرسول کے سانچے میں ڈھلنے کے لئے ،، اے مسلمانوں آج بھی تم خود کو اطیعواللہ و اطیعو الرسول کے سانچے میں ڈھال لو گے تو تمہیں نہیں کہنا پڑے گا کہ ہم مسلماں ہیں ہم سے نہ ٹکرائیے بلکہ پوری دنیا یہ کہے گی کہ مسلمانوں سے ٹکرانا آسان نہیں ہے کیونکہ ایک بار پھر اس نے اللہ پر بھروسہ کر لیا ہے اور اپنا سینہ حب نبی سے روشن کرلیا ہے ، اب اس کے سینے سے دنیا کا خوف نکل گیا ہے یعنی اس کا دل اب صرف خوف خداوندی سے لرزتا ہے اور جس کا دل صرف اور صرف خوف خدا سے لرزے وہ مومن ہے اور مومن سے لڑنا اسے شکست دینا بہت مشکل ہے -
javedbharti508@gmail.com
Comments
Post a Comment