Posts

Showing posts from December, 2025

تینتیس سال بعد نئی بابری مسجد کی تعمیر یا فتنۂ کبیر!! تحریر........... جاوید اختر بھارتی

Image
تینتیس سال بعد نئی بابری مسجد کی تعمیر یا فتنۂ کبیر!! تحریر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاوید بھارتی  چھ دسمبر 1992 کو بابری مسجد شہید کر دی گئی یعنی 33 سال کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن جب بھی چھ دسمبر آتا ہے تو اس کی یاد تازہ ہو جاتی ہے مسجد کی شہادت کے بعد ملک کے جو حالات تھے وہ بھی انکھوں کے سامنے ا جاتے ہیں اب غور کرنے کی بات یہ ہے کہ بابری مسجد تو اب نہیں رہی لیکن بابری مسجد کے نام پر سیاست کرنے والے اور مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے والے اج بھی اپنی عادت سے باز نہیں ارہے ہیں بابری مسجد کے نام پر سیاست کی روٹیاں کل بھی سینکی گئی اور اج بھی سینکی جا رہی ہیں کتنے لوگ ایسے تھے اور ہیں جو کسی وقت میں گمنام تھے لیکن بابری مسجد کے نام پر شہرت حاصل کی اونچے اونچے محل تعمیر کیے کار اور بنگلہ والے ہو گئے اب ان کی زندگی بڑے ہی عیش و ارام سے گزر رہی ہے لیکن بابری مسجد اپنی جگہ پر نہیں رہی ہر سال چھ دسمبر اتا ہے اور گزر جاتا ہے بابری مسجد سے ہمدردی دکھائی جاتی ہے لیکن اس چھ دسمبر کو یہ عہد نہیں کیا جاتا کہ اج سے ملک کی تمام مساجد کو ہم اپنے سجدوں سے اباد کریں گے راقم الحروف نے اپنے علاقے کی جامع مسجد میں چ...

ایس آئی آر: تسلی بخش جواب دینے والا کوئی نہیں!!تحریر............. جاوید بھارتی

Image
« ایس آئی آر » تسلی بخش جواب دینے والا کوئی نہیں!! تحریر: جاوید بھارتی  ہندوستان کے بارہ صوبوں میں ایس آئی آر نافذ کیا گیا چار نومبر سے فارم بانٹا جانے لگا اور بھرا جانے لگا بڑی تعداد میں بی ایل او کی تعیناتی کی گئی ،، بڑی تعداد میں بی ایل او ایسے بھی دیکھے گئے جو خود ایس آئی آر کے بارے میں کچھ نہیں جانتے ، ایسے بھی ایل او دیکھے گئے جو اپنے ہاتھوں سے فارم بھر نہیں پاتے آج بھی ہر طرف افراتفری کا عالم ہے کوئی 2025 کی ووٹر فہرست میں اپنا نام تلاش کررہا ہے تو کوئی اپنے باپ دادا ، نانا نانی کا نام تلاش کررہا ہے تو کوئی اپنی بیوی کا نام تلاش کررہا ہے کوئی اپنے بیٹے اور بیٹی کا نام تلاش کررہا ہے اور جب نہیں ملتا ہے تو چہرہ فق پڑ جاتا ہے ماتھے پر چنتا کی لکیریں ابھر جاتی ہیں پھر وہ ہر ایک سے سوال پوچھتا ہے کہ میرا کیا ہوگا لیکن اسے تسلی بخش جواب دینے والا کوئی نہیں ملتا  اسی طرح بہت بڑی تعداد ایسی دیکھی گئی کہ ان کا نام 2003 میں ہے لیکن ان کے سرپرست کا نام نہیں ہے وہ بھی کافی فکر مند ہیں آج ہر شخص اپنے آباؤ اجداد کا نام تلاش کررہا ہے اور ان کو یاد کررہا ہے کہا تو یہ جاتا ہے کہ صرف وو...

رشتہ بھائی بھائی کا!! تحریر: جاوید بھارتی

Image
رشتہ بھائی بھائی کا !! از: جاوید بھارتی  پہلے کہا جاتا تھا کہ دنیا گول ہے لیکن اب یہ کہنا چاہیے کہ دنیا مطلب پرست ہے ، دنیا مفاد پرست ہے جب تک مطلب اور مفاد ہوگا تب ایک دوسرے کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہوگا، گفتگو ، سلام کلام ہوگا، دعوت تواضع ہوگی خاطر داری ہوگی مطلب نکل جانے پر راستہ الگ الگ ، سلام کلام ایسا کہ کوئی ذائقہ نہیں ، کوئی مٹھاس نہیں ، کبھی مل بھی گئیے تو خلوص نہیں ، کبھی کچھ کھلا بھی دیا تو خوداری چھیننے کے بعد ، ہاتھوں پر دو کوڑی بھی رکھا ذلیل کرنے کے بعد اور بعد میں کبھی حال چال بھی لیا تو احسان جتانے کے بعد ،، غرضیکہ کہا جاتا ہے یہ زندگی ایسی ہے کہ کب کہاں زندگی کی شام ہوجائے یقیناً اس کہاوت میں سچائی ہے اور آگے یہ بھی کہنا چاہیے کہ کب کہاں کس کا مزاج بدل جائے کب کہاں کوئی شخص مفاد پرستی میں مبتلا ہو جائے اور خاندان ، پڑوس ، رشتہ دار ، دوست احباب کو بھلا بیٹھے تعلقات کے تمام مراحل کو بھلا بیٹھے ، سکوں کی جھنکار میں مست مگن ہو جائے۔ زید و بکر دو بھائی ہیں بچپن میں باپ ملک عدم کو راہی ہوجاتا ہے زید بڑا بھائی ہے اب وہ بکر کے ساتھ بھائی کا حق ادا کر رہا ہے اور ساتھ ہی باپ کا ...