فلسطین: بھوک سے نڈھال امام بھی عوام بھی!! تحریر.................جاوید بھارتی
فلسطین: امام اور عوام بھوک سے نڈھال!!
*تذکرہ عرب و عجم کا*
تحریر۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاوید بھارتی
یوں تو سوشل میڈیا پر ایک سے ایک پوسٹ نظر سے گزرتی ہے ، سماج میں ایک سے بڑھ کر ایک روایات دیکھنے کو ملتی ہے ، معاشرے کے اندر ایک سے بڑھ کر ایک رسم بھی دیکھنے کو ملتی ہے ، سوسائٹی کے اندر مختلف تقریب دیکھنے کو ملتی ہے لیکن کبھی کبھی کچھ ایسی چیزیں نظر سے گزرتی ہیں جو دل کو جھنجھوڑ دیتی ہیں ، آنکھوں سے آنسو نکل آتے ہیں سینے میں دل رکھنے والا انسان کبھی کبھی بہت کچھ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے ،، دنیا میں ایسے انسان بھی ہیں جن کے پاس آنکھیں ہیں مگر اس میں بینائی نہیں ہے ، ہاتھ ہیں مگر پکڑنے کی طاقت نہیں ہے ، پاؤں ہیں مگر چلنے کی طاقت و صلاحیت نہیں ہے ، دل و دماغ ہے لیکن سوچنے اور غور کرنے اور فیصلہ لینے کی صلاحیت نہیں ہے ،،
دنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کے سینے میں دل ہے لیکن احساس کرنے کے لئے ان کے پاس فرصت نہیں اور ایسا ہی انسان خود غرضی پر آمادہ ہوتا ہے اور ایسا ہی انسان غرور و گھمنڈ کی چادر بھی اوڑھ لیتا ہے-
ایک انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ انسانیت کی چادر اوڑھے ، خدمت خلق میں حصہ لے یعنی ایک انسان دوسرے انسان کے کام آئے ، قربت کا راستہ اختیار کرے ، اپنے سے بڑوں کا احترام کرے اور عزت کرے اور اپنے سے چھوٹوں پر شفقت پیار و محبت بھری نظر ڈالے ،، روایات میں تو یہاں تک ملتا ہے کہ جو شخص اپنے بڑوں کی عزت نہ کرے اور اپنے سے چھوٹوں پر شفقت نہ کرے تو اس شخص کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ مومن نہیں ہے -
ایک انسان کے اعضاء سے دوسرے انسان کے اعضاء کو تکلیف پہنچے تو وہ مومن نہیں ، تجارت میں جو دھوکا دے وہ مومن نہیں ، جو رشتہ دادی میں درار پیدا کرے وہ مومن نہیں ، جو اپنے مفاد کے لئے جھوٹ غیبت چغلی کا سہارا لے وہ مومن نہیں-
اسی طرح ایک انسان ایک مسلمان اگر دوسرے کسی انسان کو مصیبت میں مبتلا دیکھے سخت ترین مشکلات سے کراہتا ہوا دیکھے اور اس کے بعد بھی اس کا دل نہ پسیجے ، اسے رحم نہ آئے ، ہمدردی نہ آئے تو اس شخص کے بارے میں یہی کہا گیا ہے کہ وہ حاجی ہوسکتا ہے ، نمازی ہو سکتا ہے ، محدث، مفکر ، مقرر، مناظر ہوسکتا ہے لیکن وہ نیک نہیں ہو سکتا-
ذرا غور کریں کہ آج ہم کہاں کھڑے ہیں ہماری اصل اوقات اور حیثیت کیا ہے اور ہم خود کو سمجھتے کیا ہیں کسی کی بھوک پیاس کا ہمیں احساس نہیں ، کسی کے دکھ درد کا ہمیں احساس نہیں ، کسی کی غربت اور مجبوری کا ہمیں احساس نہیں ، مسجد کا متولی اور صدر بن گیا تو امام پر دھونس جمانے لگا، مدرسے کا ناظم بن گیا تو علماء کا امتحان لینے لگا ، خطیب ہوگیا تو منبر رسول سے قصے کہانیاں سنانے لگا ، اللہ نے آواز اچھی عطا کردی تو اسٹیج پر آنے کے لئے طوائفوں کی طرح ریٹ اور فیس مقرر کرنے لگا ، نعت خوانی کو آلہء کار بناکر پیسوں کے لئے جھگڑنے لگا ، اللہ نے آسودگی عطا کردی تو مزدوروں کا خون چوسنے لگا۔ درس وتدریس کے میدان میں اللہ نے تھوڑا بلندی بخشی تو اپنے گھر والوں کو بھائیوں بہنوں کو حقارت کی نظر سے دیکھنے لگا، انسان ہو کر انسانیت کو کراہنے اور سسکنے پر مجبور کرنے لگا، کل تک خانقاہوں سے دین کی تبلیغ ہوتی تھی آج خانقاہوں کو پیٹ بھرنے اور جیب بھرنے کا ذریعہ بنایا جانے لگا ، کل تک خانقاہوں کے ارد گرد رہنے والے انتہائی عقیدت و احترام و محبت سے رہتے تھے اور آج خانقاہوں کے ارد گرد گانجہ پیا جانے لگا جبکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ ہم خانقاہوں اور اولیاء کرام کے آستانوں پر پہنچیں تو اپنے حالات ، اعمال و افعال پر نظر ڈالیں اور دل پر ہاتھ رکھ کر غور کریں کہ آخر صاحب آستانہ نے زندگی میں کتنے اچھے کام کئے کہ مرنے کے بعد بھی مرکز عقیدت بنے ہوئے ہیں ،، اللہ تبارک وتعالیٰ اولیاء کرام کے مزارات پر انوار و رحمت کی بارش فرمائے آمین -
میدان محشر میں جمع سب کو ہونا ہے ، سوال وجواب کا سامنا سب کو کرنا ہے ، امیر ہو یا غریب ،بادشاہ ہو یا فقیر ، شہری ہو یا دیہاتی ، عربی ہو یاعجمی ، گورا ہو یا کالا سب کو اعمال کے بدلے جزا اور سزا ملے گی ،، جزا اور سزا سے پہلے دنیا میں جو کچھ کیا ہے اس کے متعلق سوال ہوں گے ، وہاں رشوت نہیں چلے گی ، سفارش نہیں چلے گی اور یاد رکھیں سوال کرنے والی ذات اللہ رب العالمین کی ہوگی اس کے سامنے سارے انسان صف آرا ہوں گے گرجدار آواز آئے گی لمن الملک الیوم بتاؤ آج کے دن کا مالک کون ہے ، بتاؤ بادشاہ کون ہے ، بتاؤ کس کی حکومت ہے یہ آواز اور سوال سنتے ہی وہ سارے لوگ بھی لرزہ براندام ہوں گے ، تھر تھر کانپتے ہوں گے جو دنیا میں بڑے بڑے پروٹوکول کے ساتھ چلتے ہیں ، سیکورٹی فورسز کے جھرمٹ میں چلتے ہیں ، جن کے ایک حکم پر کتنے لوگوں کی زندگی کے حالات تبدیل ہوجاتے ہیں لیکن میدان محشر میں اور بارگاہ خداوندی میں سب کے سب بے بس ہوں گے،، دنیا میں اپنا حکم چلانے والوں وہاں خود تمہارے اعضاء کے کسی حصے پر بھی تمہارا حکم نہیں چلے گا-
ائے عرب کے حکمرانوں: جب اللہ تبارک وتعالیٰ سوال کرے گا کہ میرے بندوں کو موت کے گھاٹ اتارا جارہا تھا ان کی نسل کشی کی جارہی تھی تو تمہاری غیرت کہاں تھی تم کیوں خاموش تھے؟ جب بموں سے میرے بندوں کے پرخچے اڑائے جارہے تھے اور ان کے جسموں کے ٹکڑوں کو ہواؤں میں اڑایا جا رہا تھا تو تم کیوں خاموش تھے؟ جب میرے بندوں کو یہود ونصاریٰ بھوکا پیاسا تڑپا رہے تھے اور ان کے گھروں پر بم گرا رہے تھے تو تم کیوں خاموش تھے؟ یہود ونصاریٰ کے ظلم و ستم کی وجہ سے میرے بندے دانے دانے کو ترس رہے تھے اور آنکھوں سے آنسو بہاتے ہوئے گھاسیں کھا رہے تھے تو تم تماشہ کیوں دیکھ رہے تھے ؟ میرے بندے دنیا میں بے یارو مددگار تھے ، لاچار تھے ، جسموں کو چھپانے کے لئے کپڑے نہیں تھے، رہنے کے لئے مکان نہیں تھے ، علاج کے لئے دوا ، اسپتال اور کسی طرح کے وسائل نہیں تھے تو تم رقص و سرور کی محفل کیوں سجا رہے تھے ؟ دنیا میں میرے بندے مظلوم تھے تو تم ظالم کا استقبال کیوں کر رہے تھے ؟ یہاں تک کہ جب تمہاری مسجد کا امام اتنا بھوکا پیاسا تھا کہ اسے منبر پر کھڑے ہونے کی طاقت نہیں تھی ، خطبہ دینے کی طاقت نہیں تھی ، سید الأیام کے موقع پر بھی وہ کہتا ہے کہ ائے اللہ کے بندوں ائے مصلیوں میں بہت بھوکا ہوں اور تم بھی بھوکے ہو،، بھوک کی وجہ سے میرے اندر بولنے کی طاقت نہیں ہے اور بھوک کی وجہ سے تمہارے اندر سننے کی طاقت نہیں ہے آو نماز قائم کرتے ہیں آؤ نماز پڑھ لیں ،، اتنا کہہ کر امام مصلے پر جاتا ہے اور اقامت کہی جاتی ہے ،، ائے مسلم ممالک کے حکمرانوں جب میدان محشر میں رب ذوالجلال اس معاملے سے متعلق سوال کرے گا تو تم کیا جواب دوگے؟
آئے عرب ممالک کے لوگوں اور حکمرانوں اللہ نے تمہیں فضیلت عطا کی خانہ کعبہ تمہاری سرزمین پر ،قرآن نازل ہوا تمہاری زبان میں ، قرآن نازل ہوا تمہاری سرزمین پر ، خاتم الانبیاء کی ولادت ہوئی تمہاری سرزمین پر ، جس بستی کو اللہ نے ام القراء کا درجہ دیا وہ بستی تمہاری سرزمین پر ، ( یہود ونصاریٰ کو اپنا دوست نہ بناؤ) یہ آیت بھی نازل ہوئی تمہاری سرزمین پر ، آدھی دنیا پر حکومت کرنے والی عالم اسلام کی مایہ ناز شخصیت تمہاری سرزمین پر ، بدر و حنین ، احد و خندق جیسی فیصلہ کن اسلامی جنگ ہوئی تمہاری سرزمین پر اس کے باوجود بھی ان سارے معاملات اور خصوصیات کو پیٹھ دکھاتے ہوئے آج تم یہود ونصاریٰ کو اپنا دوست بنا رہے ہو امریکی صدر ٹرمپ کو خوش کرنے کے لئے تم حضرت خالد بن ولید کے واقعات و خدمات کی دھجیاں اڑا رہے ہو ان معاملات سے متعلق پروردگار جب سوال کرے گا تو تمہارے پاس کیا جواب ہوگا؟
مسجد جاکر کہتے ہو ( ایاک نعبد و ایاک نستعین) اور محل میں بیٹھ کر مدد مانگتے ہو امریکہ اور یوکرین سے، اور نہیں تو دوسرے ملکوں کے مسلمانوں پر ہر وقت شرک و بدعت کا فتویٰ لگاتے ہو،، اللہ کہتا ہے کہ میں تمہیں سر بلند رکھوں گا شرط یہ ہے کہ تم مومن بنو اور مجھ پر بھروسہ رکھو اور تمہارا حال یہ ہے کہ امریکہ سے سربلندی کی بھیک مانگ رہے ہو ،، قرآن پڑھتے ہو ( وتعز من تشاء وتذل من تشاء) اے اللہ عزت و ذلت دینا تیرے اختیار میں ہے ،، پھر کیوں عزت و آبرو کے تحفظ کے لئے امریکہ کو پکارتے ہو ،، یہی وجہ ہے کہ آج تمہارے پاس پیٹرول و ڈیزل ہے ، سونے چاندی اور ہیرے جواہرات ہیں اور تمہارے پاس دولت کا انبار ہے پھر بھی آج تمہیں اسرائیل و امریکہ انگلیوں پر نچا رہے ہیں ،، یعنی تمہارے قول و فعل میں تضاد ہے ، تمہارے قول و عمل میں تضاد ہے-
یہ سچائی ہے کہ آج دنیا میں 57 مسلم ممالک ہیں ایران کو چھوڑ کر باقی سب ربڑ کی مہر ہیں ،، ربڑ اسٹمپ سے زیادہ ان کی اوقات نہیں بس چمچماتی ہوئی کار میں چلنا ، کھانا پینا سجنا اور سنورنا یہی ان کا شیوہ ہے خود اپنے ملک کی حفاظت کرنے کی صلاحیت سے بھی محروم ہیں ،، ان ممالک کے حکمرانوں نے اپنا طرز عمل تبدیل نہیں کیا تو وہ دن بھی آسکتا ہے کہ سب کچھ چھن جائے گا ،، یہاں تک کہ حکومت کی باگ ڈور بھی باقی نہیں رہے گی،، اس لئے آنکھیں کھولنے ، سوچنے و سمجھنے اور صحیح فیصلہ لینے کا وقت ہے ورنہ بربادی کے فسانے کی آہٹ تو اب ہر روز سنائی دیتی ہے -
+++++++++++++++++++++++++
Comments
Post a Comment