Posts

انساں کے قول و فعل میں بڑھتا ہوا تضاد! تحریر------------ جاوید اختر بھارتی

Image
انساں کے قول و فعل میں بڑھتا ہوا تضاد! تحریر: جاوید اختر بھارتی یہ ضروری ہے کہ ہم حق بولیں، حق سنیں اور حق پر عمل کریں یہ خصوصیت سب میں ہونی چاہئے چاہے دین کی تبلیغ ہو، چاہے سیاسی و سماجی تحریک ہو، چاہے انفرادی و اجتماعی گفت و شنید ہو اور چاہے مختلف تقاریب ہو ہر حال میں سچائی پر قائم رہنا لازمی ہے اور اسی سے عوامی اعتماد و مقبولیت حاصل ہوسکتی ہے اور جب عوامی اعتماد حاصل ہوگا تو مشن کو تقویت حاصل ہوگی اور منزل مقصود بھی حاصل ہوگی اس کے برعکس راستہ اختیار کرنے سے بدنامی بھی ہوگی اور ناکامی بھی ہوگی کام میں مصروف رہنا نہ تو کامیابی ہے اور نہ ہی منزل ہے بلکہ یہ مراحل ہیں اور کوشش ہے ہاں ہدف کو پورا کرلینا کامیابی ہے اس لئے کہ ہدف ایک مقصد ہوتا ہے، ایک منزل ہوتی ہے آج سیاستدانوں کو لوگ ووٹ تو دیتے ہیں مگر ان کا ادب و احترام نہیں کرتے کیونکہ آج کے سیاستدان جھوٹ کا پلندہ اپنے کاندھے پر لئے رہتے ہیں، لوکل مسائل پر آپسی پنچایت پر اب لوگ یقین نہیں رکھتے کیونکہ آج کے دور میں پنچایت میں بھی منہ دیکھ کر بات ہونے لگی ہے، آج کے دور میں عوامی مسائل پر مبنی تحریکوں سے بھی لوگ گھبراتے ہیں کیونکہ وہاں بھ...

آج کی سوشل میڈیائی عبادت! تحریر: جاوید اختر بھارتی

Image
آج کی سوشل میڈیائی عبادت! تحریر: جاوید اختر بھارتی  یہ دنیا ہے ہزاروں رنگ بدلتی ہے اور دنیا میں بسنے والے لوگ بھی اپنا رنگ بدلا کرتے ہیں کبھی دکان کی تشہیر، کبھی کاروبار کی تشہیر، تو کبھی سیاسی و سماجی تشہیر، مختلف تقاریب کی تشہیر الیکشن کی میدان میں امیدواری کی تشہیر، اپنے تعمیراتی کاموں کی تشہیر وغیرہ وغیرہ،، آخر تشہیر کا مقصد کیا ہے یہ بات تو واضح ہے کہ کوئی بھی تشہیر بے مقصد نہیں ہوتی دکان کی تشہیر کا مقصد تو یہی ہوتا ہے کہ دور دور تک کے لوگ جانیں اور لوگ جوق در جوق خریداری کے لئے آئیں،کاروباری تشہیر کا مقصد بھی کچھ اسی طرح کا ہوتا ہے سیاسی تشہیر کا مقصد پارٹی سے جڑنا اور جوڑنا ہوتا ہے، امیدواری کی تشہیر کا مقصد لوگوں کا ووٹ حاصل کرنا ہوتا ہے مختلف تقاریب کی تشہیر کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ دور دراز کے لوگوں کو پروگرام کی جانکاری ہوجائے تعمیراتی تشہیر کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ واقف رہیں کہ کون سا کام کس نے کیا ہے تاکہ دوسرا کوئی اسے بھنا نہ سکے اور فائدہ نہ اٹھا سکے ایک جلسے کی تشہیر کا مقصد اور مطلب تو سمجھ میں آتا ہے کہ عوام کو معلوم ہوجائے کہ فلاں تاریخ میں فلاں جگہ جلسہ ہے لوگو...

نہ کہیں شور نہ ہنگامہ ایسی ہوتی ہے عید! ‏تحریر ‏جاوید ‏اختر ‏بھارتی

Image
 نہ کہیں شور نہ ہنگامہ اسے کہتے ہیں عیدالفطر ! تحریر: جاوید اختر بھارتی جہاں پوری دنیا میں عید الفطر کا تہوار منایا گیا وہیں تقریباًً 25  کروڑ مسلمانوں نے بھارت میں اپنا تہوار منایا، کروڑوں مسلمانوں نے ملک بھر میں ایک ساتھ عید منائی، پورے ایک ماہ تک مسلمانوں نے روزہ رکھا، ذکر و اذکار کیا، نمازیں پڑھیں اور تلاوت کیں اور راتوں میں تراویح کی نماز ادا کی اذان فجر سے پہلے پہلے سحری کی اذان مغرب سن کر روزہ افطار کیا، گالی گلوج سے پرہیز کیا، کسی کا دل دکھانے سے پرہیز کیا غرضیکہ اس مہینے میں رحمتوں اور برکتوں سے خوب فیوض و برکات حاصل کیا جہاں تک ہوسکا فقراء ومساکین کی مدد بھی کی جس کے نتیجے میں یوم الجزا اور یوم تشکر کا موقع فراہم ہوا جسے عیدالفطر کے نام سے جانا جاتا ہے اور منایا جاتا ہے اور ہر سال کی طرح امسال بھی عیدالفطر کا تہوار منایا گیا،، لیکن کہیں بھی مسلمانوں نے اپنا تہوار مناتے ہوئے کسی مندر کے سامنے سے جلوس نہیں نکالا، کسی بھی دوسری مذہبی عبادتگاہ کے سامنے جمع ہوکر نعرے بازی یا اشتعال انگیزی نہیں کی، غیر مسلم علاقوں میں تلوار یا ہتھیار نہیں لہرائے، 25 کروڑ مسلمانوں نے کسی ای...

اصلاح معاشرہ کی حقیقت بس تقریر و تحریر تک!! تحریر: جاوید اختر بھارتی

Image
( آئینہ سچائی کا) اصلاح معاشرہ کی حقیقت بس تقریر و تحریر تک!! تحریر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاوید اختر بھارتی  لمبے لمبے مضامین، تقاریر، بیانات اور آپس میں بات چیت ہوتی ہے اس دوران کہا جاتا ہے کہ جہیز ناسور ہے، جہیز ایک بھیک ہے, جہیز لعنت ہے، جہیز کا مطالبہ کرنا بڑی بے شرمی اور بے غیرتی کا اظہار ہے لیکن معاملہ بڑھتا ہی جارہا ہے ایک طرف بحث کی جاتی ہے کہ شادیوں میں بارات کے ساتھ جانا ہی اصل شادی کی تقریب معلوم ہوتی ہے اور بغیر بارات کی شادی بھی کوئی شادی ہے،، دوسری طرف یہ بھی بحث ہوتی ہے کہ بارات میں سہرا پڑھنا ناجائز ہے تو دوسرا فریق کہتا ہے کہ جائز ہے،، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پہلے انڈا ہے یا مرغی،، یہ فیصلہ کیسے ہوگا اجتماعی طور پر فیصلہ کرنا انتہائی مشکل نظر آرہا ہے مگر انفرادی طور پر کچھ حد تک فیصلہ ہوسکتا ہے کہ ایک شخص خود مرغی خرید کر لائے اور جب اسے انڈا حاصل ہوتو کہے کہ میرے پاس تو پہلے مرغی آئی اور بعد میں انڈا آیا، کم از کم ایک شخص کا تو مسلہ حل ہوا مگر یہاں تو باغ کا باغ ہی کھٹا ہے کبھی کوئی یہ نہیں کہتا ہے کہ ارے سہرا تو بعد میں ہے پہلے یہ فیصلہ کرو کہ بارات جائز ہے کہ ناجائز ہے...

پاکیزہ معاشرے کے لئے صرف تقریر نہیں عمل کی ضرورت ہے! تحریر: جاوید اختر بھارتی

Image
پاکیزہ معاشرے کے لئے صرف تقریر نہیں عمل کی ضرورت ہے! تحریر: جاوید اختر بھارتی کتنا آسان ہے مشورہ دینا، کتنا آسان ہے بڑھتی ہوئی رسم و رواج پر گھڑیالی آنسو بہانا، کتنا آسان ہے جہیز کے مطالبے کو لعنت و ناسور بتانا، کتنا آسان ہے تقریریں کرنا اور کرانا، کتنا آسان ہے بیٹیوں کو زحمت نہیں رحمت بتانا  کتنا آسان ہے راتوں میں چودہ سو سال پہلے کے واقعات کو بیان کرنا، نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حیات طیبہ پر روشنی ڈالنا، قرآن و احادیث بیان کرنا اور شائد اس سے بھی بہت آسان ہے دن کے اجالے میں ان تمام فرامین اور واقعات کی دھجیاں اڑانا-  ہاں یہ سچائی ہے آج کا مسلمان ساری حدوں کو پارکرتا جارہاہے شادی کے نام پر لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہے، بے حیائی اور برائی کا بازار گرم ہے، فضول خرچیوں کا زبردست ماحول ہے سجاوٹ، شامیانے اور پکوان کے نام پر پانی کی طرح دولت بہائی جارہی ہے قرض اور لون تک کا سہارا لیا جانے لگا لڑکی کے گھر ولیمہ نہیں تھا مگر آج لڑکی کے گھر پر ولیمہ اور طعام کے نام پر کمر توڑا جارہا ہے، قرض کے بوجھ تلے دبایا جارہا ہے اور تقریریں کرنے کرانے کا نہ جانے کیا مقصد ہے جب تقاریر کے اختتا...

اب تو جلسوں کی بھی اصلاح ضروری ہے! تحریر: جاوید اختر بھارتی

Image
اب تو جلسوں کی بھی اصلاح ضروری ہے! تحریر: جاوید اختر بھارتی javedbharti508@gmail.com گستاخی معاف حد ہوگئی مغالطہ کی، حد ہوگئی مبالغہ کی، حد ہوگئی نذرانے کے نام پر لوٹ کھسوٹ کی، حد ہوگئی پیری مریدی کو بڑھاوا دینے کی اور حد ہوگئی بزرگوں کے قصے کہانیاں سننے اور سنانے کی،، معاشرے کے اندر برائیاں بڑھتی جارہی ہیں، شادی بیاہ میں فضول خرچیاں بڑھتی جارہی ہیں، ناقص اور نئی نئی رسمیں بڑھتی جارہی ہیں،، دین کے نام پر ہونے والے جلسے نام و نمود تک محدود، شہرت اور نمائش تک محدود، بس واہ واہ اور کھوکھلے نعروں تک محدود،، نعت خواں کو بھی داد اور دولت چاہئے، پیشہ ور خطیب کو بھی داد اور دولت چاہئے رات دس بجنے کے بعد جلسہ شروع ہوگا اور رات کے آخری حصے میں جلسہ ختم ہوگا- زیادہ سے زیادہ بھیڑ ہوجائے تو جلسہ کامیاب، زیادہ سے زیادہ نعرہ لگے تو جلسہ کامیاب، جتنی دیر رات تک جلسہ چلے اتنا کامیاب، مہنگا سے مہنگا خطیب و شاعر ہو تو جلسہ کامیاب جتنی تڑک جھڑک کے ساتھ تقریریں ہوں جلسہ اتنا کامیاب غرضیکہ اب جلسے کی کامیابی کا معیار ریڈیمیڈ ہوگیا،، آج عام طور پر جلسے کا خرچ ڈیڑھ سے دو لاکھ روپے تک ہوتا ہے جبکہ اسے میڈیم می...

بدگمانی سے بچو اور یوں نہ کسی کو بدنام کرو!تحریر: جاوید اختر بھارتی

Image
    بدگمانی سے بچو اور یوں نہ کسی کو بدنام کرو! تحریر: جاوید اختر بھارتی  javedbharti508@gmail.com آج کا دور بڑا ہی پر آشوب و پر فتن یہاں تک کہ اب یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ کل تک دنیا گول تھی لیکن آج دنیا مطلب پرست ہے نہ چھوٹے بڑے کا ادب و احترام ہے اور نہ اخلاص وفا کا جذبہ ہے نہ کسی کے دکھ سکھ میں شریک ہونے کا جذبہ ہے کوئی ہرے درختوں کی جڑوں میں گرم پانی ڈال رہا ہے تو کسی کے تعلقات کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھ رہا ہے جھوٹ اور مکر و فریب کے لباس میں ملبوس ہوکر دغابازی کا بازار گرم کررہا ہے تو کوئی قربت کو کاٹ رہا ہے اور صرف اپنی خوشی کے لئے دوسروں کا سکھ چین برباد کررہا ہے اور خوب بدگمانی کو فروغ دے رہا ہے ماحول تو ایسا ہوچکا ہے کہ پڑوسی پڑوسی کے لئے خطرناک، دوست دوست کے لئے خطرناک بنتا جارہا ہے ایک انسان کسی دوسرے انسان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتا ہے تو وہ وہ چہرہ بھی دیکھتا ہے اور اس کی حیثیت کو بھی دیکھتا ہے یہ بھی حقیقت ہے کہ جب کوئی کسی کو حد سے زیادہ چاہتا ہے تو اسے کوئی برائی نظر نہیں آتی اور جب کوئی کسی کا ساتھ چھوڑتا ہے تو اس کے اندر کوئی اچھائی نظر نہیں آتی اور وہ ب...