جیب کترے کی مہربانی!! تحریر: جاوید بھارتی
جیب کترے کی مہربانی !!
تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاوید بھارتی
یوں تو ہر برادری میں اچھے برے لوگ ہوتے ہیں ہر مذہب میں بھی اچھے برے لوگ ہوتے ہیں ہر سماج ہر معاشرے اور ہر سوسائٹی میں اچھے برے لوگ پائے جاتے ہیں چاہے سرمایہ دار ہو یا مزدور، امیر ہو یا غریب ، شہری ہو یا دیہاتی ہر جگہ ہر قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اچھے سے اچھے لوگوں کے قدم بھی پھسل جایا کرتے ہیں کبھی لالچ میں ا جایا کرتے ہیں ویسے ہی کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ڈاکوؤں کو بھی رحم ا جاتا ہے چوروں کی بھی غیرت جاگ جایا کرتی ہے اور جیب کتروں کو بھی کبھی کبھی دل کی گہرائیوں سے کچھ سوچنے کے لیے اور سوچنے کے بعد بہترین فیصلہ لینے کے لیے مجبور ہو جانا پڑتا ہے اسی چیز کو احساس کہا جاتا ہے اور اسی چیز کو ضمیر کہا جاتا ہے-
ظاہر بات ہے کہ جس کا ضمیر جو گوارا کرتا ہے وہ انسان وہی کام کرتا ہے ایسی ہی ایک کہانی ایک واقعہ تحریر کرنا بہت ہی مناسب لگتا ہے جو دلچسپ بھی ہے اور سبق اموز بھی ہے بس سے لوگ سفر کر رہے ہیں پوری بس کھچا کھچ بھری ہوئی ہے کسی کو کہیں جانا ہے تو کسی کو کہیں جانا ہے ایسے میں ایک مقام پر بس رکتی ہے ایک انسان بس سے جیسے ہی نیچے اترتا ہے تو اس کے ساتھ ہی دوسرا شخص بھی نیچے اترتا ہے اور پہلے والے شخص کو دھکے مارتا ہوا اگے بڑھتا ہے اب جسے دھکا مارا ہے وہ انسان اسے مخاطب کر کے کہتا ہے او بھائی تجھے کہیں چوٹ تو نہیں لگی تو وہ شخص جواب دیتا ہے کہ نہیں مجھے کہیں چوٹ نہیں لگی پہلے والے شخص نے کہا ٹھیک ہے جاؤ وہ شخص اگے بڑھ جاتا ہے لیکن دھکا مارنے کے وقت وہ اس کی جیب سے پرس نکال لیتا ہے-
اب پہلے والا شخص جسے بھوک بھی لگی تھی اور پیاس بھی لگی تھی ایک دکان پر پہنچتا ہے اور دکاندار سے ایک بسکٹ مانگتا ہے دکاندار جب بسکٹ دیتا ہے تو یہ شخص پیسہ دینے کے لیے اپنی جیب پر ہاتھ ڈالتا ہے تو جیب خالی ہے جیب کے اندر پرس نہیں ہے ادھر ادھر ہاتھ لے جاتا ہے اور اس کے بعد اس کا چہرہ اڑ جاتا ہے اور دکاندار سمجھ جاتا ہے کہ اس کے ساتھ کوئی حادثہ پیش اگیا ہے پوچھتا ہے کہ اخر کیا ہوا وہ شخص جواب دیتا ہے میری جیب سے کسی نے پرس نکال لیا ہے اور میرے اس پر س میں ہی پیسے بھی تھے-
ادھر جیب کترا کافی خوش ہے کی مجھے اج برس ہاتھ لگا ہے اس میں جو بھی رقم ہوگی اب وہ میری ہوگی گویا وہ پرس کھولتا ہے تو اس میں سے صرف 100 روپے کا ایک نوٹ نکلتا ہے اور ساتھ ہی ایک خط بھی برامد ہوتا ہے جس پہ لکھا ہوتا ہے کہ اے میری ماں اج میرے پاس صرف 100 روپے ہی ہیں اخر میں کتنا بد نصیب ہوں کہ تیری دوا بھی نہیں لا سکتا اور میرے اندر اتنی ہمت نہیں کہ میں کسی کے اگے ہاتھ پھیلاؤں کسی سے بھیک یا مدد مانگوں میں تلملاتی ہوئی دھوپ میں بھوک و پیاس سے نڈھال ہوں لیکن روزی روٹی کی تلاش میں ہوں مجھے اپنی فکر نہیں لیکن ائے ماں مجھے تیری فکر ہے تیری بیماری کی فکر ہے تیرے علاج کی فکر ہے تیری دوا کی فکر ہے اور مجھے اپنے پروردگار پر پورا بھروسہ ہے کہ وہی میری مدد کرے گا-
اتنا کہنے کے بعد وہ شخص روزی روٹی کی تلاش میں ادھر ادھر بھٹکتا پھرتا ہے کہ پھر اسی جیب کترے سے ملاقات ہوتی ہے اور پھر وہ دھکا مار کر اگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ شخص اس دھکا مارنے والے کا ہاتھ پکڑ کر کہتا ہے کہ مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ اج کے پہلے بھی میرا تم سے کبھی آمنا سامنا ہوا ہے تو وہ شخص جواب دیتا ہے کہ ارے بھائی یہ دنیا گول ہے گھوم پھر کر انسان کو اسی جگہ انا ہے جہاں سے وہ چلتا ہے بالکل ہو سکتا ہے کہ میری تم سے کبھی ملاقات ہوئی ہو کبھی بات چیت ہوئی ہو کبھی آمنا سامنا ہوا ہو اتنا کہنے کے بعد وہ شخص اگے بڑھ جاتا ہے جس شخص کو دھکا مارا تھا اب وہ شخص بھی روزی روٹی کی تلاش میں اگے بڑھتا ہے اچانک اس کا ہاتھ جیب کی طرف بڑھتا ہے تو اسے یہ محسوس ہوتا ہے کہ میری جیب میں پرس موجود ہے وہ شخص اپنی جیب میں ہاتھ ڈالتا ہے تو واقعی پرس موجود رہتا ہے وہ جب پرس کو نکال کر دیکھتا ہے تو اس میں ایک ہزار روپے موجود ہیں اور ساتھ ہی ایک خط بھی موجود ہے جس میں تحریر کیا ہوا تھا کہ او میرے بھائی میں ایک جیب کترا ضرور ہوں لیکن اتنا سخت بھی نہیں ہوں کہ کسی کی ماں کے دوا اور علاج کے پیسوں کو بھی ہڑپ کر جاؤں میں نے بس سے اترتے ہوئے تمہیں دھکا مارا تھا اور تمہاری جیب سے پر س نکالا تھا تو پرس کے ساتھ جو ایک خط مجھے ملا اسے پڑھ کر میری انکھوں میں انسو اگئے اور میرا جسم لرزہ بر اندام ہو گیا اور مجھے یہ گوارا نہیں ہوا کہ میں اس پیسے کو کھا سکوں-
آخر ایک ماں تو ماں ہوتی ہے لہذا میں اپنے کیے پر شرمندہ ہوں اور تم سے معافی کا طلبگار ہوں ساتھ ہی تمہارے پرس سے نکلے ہوئے 100 روپے کے ایک نوٹ کے ساتھ میں نے نو سو روپیہ ملا کر دوبارہ تمہیں دھکا مارتے ہوئے تمہاری جیب میں پرس رکھ دیا تاکہ تم اپنی ماں کے لیے دوا خرید سکو اور ساتھ ہی میں اللہ تبارک و تعالی سے دعا گو بھی ہوں کہ تمہاری ماں جد از جلد صحت یاب ہو جائے ہو سکے تو مجھے معاف کرنا اور میرے لیے دعا بھی کرنا اور ماں سے بھی کہنا کہ میری صحت و سلامتی کے لیے اور ساتھ ہی نیک کام کرنے کی سعادت کے لیے دعا کرے-
+++++++++++++++++++++++++++++
Comments
Post a Comment