گلشن اشرفیہ کا ایک پھول مرجھا گیا !! آہ! علامہ مبارک حسین مصباحی تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاوید بھارتی
- Get link
- X
- Other Apps
گلشن اشرفیہ کا ایک پھول مرجھا گیا!!
آہ! علامہ مبارک حسین مصباحی
تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاوید اختر بھارتی
یوں تو قانون قدرت ہے کہ جو دنیا میں آیا اسے ایک دن جانا ہے اور اسی قانون قدرت کے مطابق گذشتہ دنوں صحافت وخطابت کی دنیا کا ایک روشن چراغ بجھ گیا ، گلشن اشرفیہ کا ایک مہکتا ہوا پھول مرجھا گیا یعنی فخر صحافت وخطابت الجامعۃ الاشرفیہ کے باوقار استاد اور ماہنامہ اشرفیہ کے چیف ایڈیٹر علامہ مبارک حسین مصباحی کا انتقال ہوگیا جن کے انتقال سے صحافت وخطابت اور درس و تدریس کی فضا سوگوار ہو گئی اور چہار جانب تعزیتی پیغام و پروگرام کا سلسلہ شروع ہو گیا،،
حضرت مولانا مبارک حسین مصباحی نصف صدی سے زائد عرصہ تک علم و ادب، تحقیق و تصنیف، وعظ و ارشاد اور تربیتِ نسلِ نو کے میدان میں نہایت وقار اور استقامت کے ساتھ خدمات انجام دیتے رہے۔ آپ نے اردو زبان و ادب کی آبیاری، دینی فکر کی ترویج اور ہزاروں طلبہ کی علمی و فکری تربیت کے ذریعے جو گراں قدر خدمات سرانجام دیں، وہ ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ آپ کی تحریروں میں علم کی گہرائی، فکر کی پختگی اور زبان کا حسن نمایاں تھا، جبکہ آپ کی خطابت اخلاص، دردِ امت اور دعوتِ حق کا آئینہ دار تھی۔
اشرفیہ کا گلشن آج اپنے ایک مہکتے ہوئے پھول سے محروم ہو گیا۔ حضرت مولانا مبارک حسین مصباحی رحمہ اللہ کی جدائی دلوں کو اداس کرگئی بچھڑنے والے بچھڑ جاتے ہیں، مگر اپنے علم، اخلاص اور حسنِ کردار کی خوشبو چھوڑ جاتے ہیں۔
علامہ مبارک حسین مصباحی کی علمی، تحقیقی، تصنیفی اور دینی خدمات اہلِ سنت کے لیے ایک گراں قدر سرمایہ تھیں۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی علمِ دین کی اشاعت، مسلکِ اہلِ سنت کے فروغ اور امت کی فکری رہنمائی میں صرف فرمائی۔ ان کا وصال علمی و ادبی حلقوں کے لیے ایک عظیم سانحہ اور ناقابلِ تلافی خسارہ ہے-
صحافت وخطابت اور درس و تدریس ، فلسفہ و منطق میں جسے مہارت حاصل تھی وہ شخصیت علامہ مبارک حسین مصباحی کی تھی وہ کبھی معتبر صحافت کے میدان میں بلند ترین مینار کی شکل میں نظر آتے تھے تو کبھی فصاحت و بلاغت اور دلائل و ثبوت کے اسٹیج پر روشن چراغ کی طرح جگمگاتے تھے افسوس آج ساری رونقیں ختم ہو گئیں آسماں ان کی لحد پر شبنم افشانی کرے-
ایسا کم دیکھنے میں آیا ہے کہ ایک ہی شخص بیک وقت تحریر و تقریر دونوں میں با کمال ہو۔ عموماً دیکھا جاتا ہے کہ جسے اچھا لکھنا آتا ہے، بولنے میں اس پایے کا نہیں ہوتا۔ اور جو اچھا بولنے پر قادر ہو، اسے اس معیار کا لکھنا نہیں آتا۔ لیکن مولانا مبارک حسین مصباحی کے اندر یہ ساری خوبیاں اور خصوصیات بیک وقت دیکھنے کو ملی یقیناً اہلسنت والجماعت ایک مایہ ناز شخصیت سے محروم ہو گئی-
حضرت مولانا مبارک حسین مصباحی کی وفات صرف ایک فرد کا انتقال نہیں بلکہ علم و حکمت، دعوت و اصلاح، اخلاص و للّٰہیت اور فکر و بصیرت کے ایک روشن باب کا اختتام ہے۔ آپ نے اپنی پوری زندگی دینِ متین کی خدمت، نسلِ نو کی تعلیم و تربیت اور اہلِ سنت کے مسلک و مشرب کی اشاعت میں صرف فرمائی۔ آپ کی علمی، دینی اور اصلاحی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی-
علامہ مبارک حسین مصباحی صحافت کی دنیا میں معتبر و بیباک تھے، خطابت کی دنیا میں عظیم الشان تھے ، دلائل پیش کرنے میں لاجواب تھے، درس و تدریس کی دنیا میں مایہ ناز تھے ، تصنیف کی دنیا میں زبردست قلمکار تھے، منطق و فلسفہ میں بھی ممتاز تھے ، انتہائی خوش مزاج تھے ، مطالعہ تو حضرت کے جسم و زندگی کا ایک حصہ تھا، تحریریں پڑھنا اور تحریر کو موضوع دینا یعنی مضامین کی سرخی لگا نے میں بڑے ماہر تھے ایسی ہی شخصیتوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا -
5 جون 2026 کو بعد نمازِ جمعہ الجامعۃ الاشرفیہ کے وسیع میدان میں مرحوم کی نماز جنازہ ادا کی گئی اور اشرفیہ قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا-
6 جون 2026 کو عزیز المساجد میں ماہنامہ اشرفیہ کے چیف ایڈیٹر علامہ مبارک حسین مصباحی کی رحلت پر ایصال ثواب کا اہتمام کیا گیا جس میں قرآن خوانی اور فاتحہ خوانی کرکے مولانا مرحوم کی روح کو ایصال ثواب کیا گیا بعدہ ایک تعزیتی اجلاس کا انعقاد ہوا جس میں بڑی تعداد میں علماء کرام ، حفاظ و قراء عظام ، طلباء ، ائمہ مساجد ، خطباء ، سیاسی اور سماجی لیڈران اور صحافیوں کی بڑی جماعت شریک ہوئی اور مولانا مرحوم کے تئیں اپنی عقیدت و احترام و محبت کا اظہار کیا ساتھ ہی ان کی حیات و خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالی -
علامہ مبارک حسین مصباحی کے انتقال پر مسلسل تعزیتی پیغامات ملک و بیرون ملک سے الجامعۃ الاشرفیہ میں آرہے ہیں،، واضح رہے کہ علامہ مبارک علیہ الرحمہ ایک بیباک اور تجربہ کار صحافی بھی تھے ، خوش فکر خطیب بھی تھے ، دین کے مبلغ بھی تھے یقیناً ہمارے درمیان سے ایک ایسا عالم دین دنیا سے رخصت ہوگیا جس نے اپنی پوری زندگی علم کی خدمت میں صرف کردی ، طلباء کی زندگی کو سجانے اور سنوارنے میں صرف کردی ، تحریر و تقریر کے ذریعے حق بات ڈنکے کی چوٹ پر کہنے میں صرف کردی ، ماہنامہ اشرفیہ کو معیاری بنانے اور اسے بلندیوں پر پہنچا نے میں صرف کردی ، ان کی تحریروں میں علمی وقار فکری پختگی اور ادبی شائستگی نمایاں تھی وہ نصف صدی تک علم و ادب ، تحقیق و تفتیش و تصنیف ، وعظ و نصیحت اور تعلیم و تربیت کے میدان میں استقامت کے ساتھ خدمات انجام دیتے رہے -
یہ حقیقت ہے کہ علم و ادب و قلم کی دنیا کا ایک روشن اور مؤثر چراغ بجھ گیا جس کی روشنی مدتوں اہل علم و ادب کے دلوں میں اور ذہنوں میں باقی رہے گی تحقیق و تصنیف کے میدان میں مولانا مرحوم کی خدمات قابل قدر ہیں اور ہمیشہ ان کی خدمات یاد رکھی جائیں گی ،، موت اس کی ہے جس کا زمانہ کرے افسوس ،، یوں تو دنیا میں سبھی آئے ہیں مرنے کے لئے اللہ تبارک وتعالیٰ علامہ مبارک حسین مصباحی کی مغفرت فرمائے ، درجات بلند فرمائے ان کی قبر پر انوار و رحمت کی بارش فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین -
++++++++++++++++++++++++++++
جاوید اختر بھارتی ( سابق سکریٹری یوپی بنکر یونین)محمدآباد گوہنہ ضلع مئو یو پی
- Get link
- X
- Other Apps
Comments
Post a Comment