زندگی تین حصوں میں!!! تحریر : جاوید اختر بھارتی


بچپن، جوانی اور پھر بڑھاپا!!
( زندگی تین حصوں میں )
تحریر: جاوید بھارتی 
بڑھاپا تو آخر بڑھاپا ہے، یہ زندگی کی ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کوئی انسان بچ نہیں سکتا۔ بچپن، جوانی اور پھر بڑھاپا، یہ زندگی کے قدرتی مراحل ہیں۔ انسان چاہے کتنا ہی طاقتور، مالدار یا مشہور کیوں نہ ہو، ایک نہ ایک دن اسے بڑھاپے کی منزل پر پہنچنا ہی پڑتا ہے۔
بڑھاپے میں انسان کی جسمانی طاقت کم ہونے لگتی ہے، نظر اور سماعت کمزور ہو جاتی ہے، اور چلنے پھرنے میں بھی دشواری پیش آتی ہے۔ وہ کام جو جوانی میں آسان معلوم ہوتے تھے، بڑھاپے میں مشکل محسوس ہونے لگتے ہیں۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ بڑھاپا صبر، حوصلے اور دوسروں کے تعاون کا زمانہ ہے۔
اسلام نے بزرگوں کی عزت و تکریم پر بہت زور دیا ہے۔ والدین اور تمام بزرگ افراد کے ساتھ حسنِ سلوک، احترام اور محبت سے پیش آنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ ان کی خدمت کرنا نہ صرف ایک اخلاقی فریضہ ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا بھی بہترین ذریعہ ہے۔
ہمیں چاہیے کہ اپنے بزرگوں کی قدر کریں، ان کی ضروریات کا خیال رکھیں، ان کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں اور انہیں کبھی تنہا یا بے سہارا محسوس نہ ہونے دیں۔ آج جو جوان ہے، کل وہ بھی بوڑھا ہوگا، اس لیے دوسروں کے ساتھ وہی سلوک کرنا چاہیے جس کی ہم اپنے لیے امید رکھتے ہیں۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ بڑھاپا تو آخر بڑھاپا ہے، لیکن اگر خاندان اور معاشرہ بزرگوں کو محبت، عزت اور سہارا دے تو ان کی زندگی سکون، خوشی اور وقار کے ساتھ گزر سکتی ہے۔

 60 سال کے بعد انسان زندہ تو رہتا ہے مگر آہستہ آہستہ دنیا اس کے بغیر جینا سیکھ لیتی ہے زندگی کا سب سے خاموش مرحلہ بڑھاپا نہیں ہوتا بلکہ وہ احساس ہوتا ہے جب انسان کو یہ سمجھ آنے لگتا ہے کہ اب اس کی ضرورت پہلے جیسی نہیں رہی،، ایک وقت تھا کہ گھر آپ کے بغیر نہیں چلتا تھا لوگ آپ کے مشورے کے بغیر فیصلہ نہیں کرتے تھے اور پھر آہستہ آہستہ سب اپنے اپنے راستوں پر نکل جاتے ہیں بچے اپنی دنیا میں اور دوست اپنی بیماری میں اور جن لوگوں کے لیے آپ نے پوری زندگی کھبا دی وہ بھی اپنی اپنی دنیا میں مصروف ہو جاتے ہیں، اپنی اپنی دنیا میں مست مگن ہوجاتے ہیں پھر ایک دن انسان اپنے ہی گھر میں مہمان جیسا محسوس کرنے لگتا ہے،، اور سب سے تکلیف دہ لمحہ جانتے ہیں کون سا ہوتا ہے جب انسان بول تو رہا ہو لیکن کوئی بھی پوری توجہ سے اسے سن نہ رہا ہو 60 سال کے بعد شور کم ہو جاتا ہے اور خاموشیاں لمبی ہو جاتی ہیں جسم بھی ساتھ دینا چھوڑ دیتا ہے سیڑھیاں اونچی لگنے لگتی ہیں دوائیں کھانا کھانے سے زیادہ ضروری ہو جاتی ہے بڑھاپا اچانک نہیں اتا وہ آہستہ آہستہ انسان سے سب کچھ لے جاتا ہے اور انسان پہلی بار سمجھتا ہے کہ یار اصل دولت تو صحت تھی پھر ایک وقت اتا ہے کہ جب انسان کو اپنے ہی ہاتھوں کی طاقت کم ہوتی محسوس ہوتی ہے اور وہی انسان جس نے دوسروں کو ہمیشہ سہارا دیا ہوتا ہے ایک دن خود سہارے ڈھونڈ رہا ہوتا ہے اسی لیے 60 سال کے بعد زندگی سے لڑنا بند کر دیں، بچوں کو بہت زیادہ کنٹرول کرنا چھوڑ دیں، لوگوں سے ضرورت سے زیادہ امید رکھنا بھی چھوڑ دیں اور اپنے دل کو اللہ تعالی کے قریب لے جائیں کیونکہ آخر میں نہ شہرت ساتھ جاتی ہے نہ دولت نہ اولاد نہ ہی لوگ آخر میں صرف دو چیزیں ساتھ رہتی ہیں ایک انسان کے اعمال اور دوسرا اس کا سکون اور سچ بھی یہی ہے کہ رات اچانک نہیں اترتی وہ آہستہ آہستہ انسان کی زندگی پر پھیلتی ہے حقیقت اگر آج سمجھ لیں گے تو شاید بڑھاپا امن سے گزرے نہیں تو پھر بڑھاپا تو بڑھاپا ہے،، ہاتھوں میں لاٹھی ہوگی لیکن کسی کو مارنے کے لئے نہیں بلکہ خود کے لڑکھڑاتے ہوئے قدم سنبھالنے کے لئے، ڈگمگاتے ہوئے بدن کو سنبھالنے کے لئے اسی وجہ سے کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ہوئی عمر ساٹھ برس جھکی کمر تو ہاتھ ڈنڈا لکڑی کا،، ارے کان سے سننے والے انساں دیکھ تماشا لکڑی کا-
   ++++++++++++++++++++++++
جاوید اختر بھارتی ( سابق سکریٹری یوپی بنکر یونین) محمدآباد گوہنہ ضلع مئو یو پی 




Comments

Popular posts from this blog

ہمارے لیے علم سرمایہ ہے اور علم دین عظیم سرمایہ ہے

کس کو بتاؤں حال دل بے قرار کا!! ( افسانہ) تحریر : جاوید بھارتی

اب غزہ جیسی تصویریں اسرائیل سے آنے لگیں!! تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاوید اختر بھارتی